اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مہنگائی کو زمین سے 40 ہزار فٹ بلند کر دیا ہے اور غلط معاشی اعداد و شمار پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں کمی نہیں آ رہی، بلکہ افراط زر مزید بڑھ رہا ہے۔ عمر ایوب نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جو بھی دعوے کر رہی ہے، حقیقت میں افراد زر میں کوئی کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہی ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے غیر ملکی دوروں کے باوجود سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔
عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی بہتری قانون کی حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں۔عمر ایوب نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور ڈی چوک پر پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی غیر قانونی گرفتاری کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انہیں غیر قانونی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان تمام حالات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا اور معیشت کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔