شام کے نئے نگراں وزیرِ اعظم محمد البشیر نے اپنے پہلے انٹرویو میں ملک میں امن اور استحکام کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ شام کے لوگ امن اور سکون سے لطف اندوز ہوں اور ملک جنگ کے بعد اپنی تعمیر و ترقی کی جانب قدم بڑھائے۔
محمد البشیر کا بیان:
امن کی ضرورت:
محمد البشیر نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "ملک جنگ سے تھک چکا ہے، اب ہمیں امن کی جانب بڑھنا ہوگا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام کے لوگ جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور اب وقت ہے کہ ملک میں استحکام اور سکون قائم کیا جائے۔
تعمیر نو کی ضرورت:
البشیر نے شام کی تعمیر نو اور ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ "شام ترقی اور تعمیر نو کی طرف بڑھ رہا ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کسی اور جنگ کے لیے تیار نہیں اور وہ کسی اور جنگ میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
مستقبل کی حکمت عملی:
نئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ "اب ہمیں اپنے لوگوں کو امن کی صورت میں سکون دینا ہے" اور شام کے مستقبل میں امن، ترقی اور استحکام کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
محمد البشیر کی یہ پہلی عوامی تقریر اس بات کا غماز ہے کہ شام کی حکومت جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد نئے دور کی طرف بڑھنے کی خواہاں ہے، اور ملک میں معاشی اور سماجی استحکام کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔