لاہور: تھانہ غازی آباد میں اے ایس آئی عمران کی ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں سنگین دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔
مقدمے میں پہلے سے درج 376 (ریپ) کے تحت جرم ہونے کے علاوہ اب 365 بی (اغوا) اور 376 (سیکشن 4) بھی شامل کی گئی ہے۔ یہ سزائیں جرم ثابت ہونے پر موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہیں۔پولیس کے مطابق، تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ واقعے کے بعد، سابق انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد ناصر امین نے حکمت عملی کے تحت ملزم اے ایس آئی عمران کو واپس بلا کر گرفتار کیا، کیونکہ اگر اسے گرفتار نہ کیا جاتا تو وہ عبوری ضمانت لے کر تھانے آ سکتا تھا۔
ملزم نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے انکاری موقف اپنایا ہے، اور کہا ہے کہ اس نے لڑکی سے زیادتی نہیں کی، بلکہ اسے صرف گداگری سے منع کیا اور ڈرانے کے لیے تھانے لایا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے کھانا کھلا کر واپس بھیج دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، ابتدائی میڈیکل رپورٹس میں زیادتی ثابت نہیں ہوئی ہے، اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔