لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے الزام میں ہونے والی مقدمہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔اس حوالے سے پولیس اہلکار عمران کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ لڑکی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھیک مانگتی تھی۔ عمران کے مطابق، اس نے لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو متعدد بار بھیک مانگنے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ باز نہ آئے۔ اس لیے لڑکی کو کچھ دیر کے لیے پولیس اسٹیشن لایا گیا، تاکہ اسے سمجھایا جا سکے۔عمران نے بتایا کہ بعد میں لڑکی رونے لگی، جس کے بعد اسے واپس اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات میں مزید پیش رفت ہو رہی ہے، اور حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹ کے موصول ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔دوسری جانب، واقعے کے حوالے سے پولیس اور فرانزک ٹیمیں تحقیقات میں مصروف ہیں، اور مقدمہ کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے۔