وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی تمام مذہبی اقلیتیں ہمارے معاشرے کا حسن اور "سر کا تاج" ہیں، اور ان کے تحفظ، ترقی اور احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا پاکستان سب کا وطن ہے جہاں ہر شہری اپنے عقیدے کے ساتھ محفوظ اور آزاد ہے۔ وطنِ عزیز کی ترقی و خوشحالی میں سرگرم تمام اقلیتی بہن بھائیوں کو انہوں نے خراجِ تحسین پیش کیا۔
اقلیتی فلاح کے لیے نمایاں اقدامات
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کو تعلیم، ترقی اور فلاح و بہبود کے پورے حقوق دینے کے عزم پر قائم ہے۔پہلی بار "مینارٹی کارڈ" کا اجرا کیا گیا، جس کے تحت 50 ہزار مستحق افراد کو سہ ماہی ساڑھے 10 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، اور جلد ہی یہ تعداد 75 ہزار تک بڑھائی جائے گی۔پنجاب کو پہلا سکھ میرج ایکٹ 2024 منظور کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جس سے "آنند کارج" کو قانونی حیثیت دی گئی۔ہندو میرج ایکٹ 2017 کی منظوری 2025 میں دی جا رہی ہے۔
بجٹ اور ترقیاتی منصوبے
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ رواں مالی سال اقلیتی برادری کے لیے 8 ارب روپے کا ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔مذہبی تہواروں کی گرانٹس 6 کروڑ سے بڑھا کر 36 کروڑ 60 لاکھ روپے کر دی گئی ہیں۔40 تاریخی گوردوارے، 25 چرچز اور 5 مندروں کی بحالی کے لیے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔لاہور میں سمادھی مہاراجہ رنجیت سنگھ، راولپنڈی کے شری کرشنا مندر اور چرچ آف پاکستان کی بحالی جاری ہے۔
تعلیم، روزگار اور سماجی ہم آہنگی
اقلیتی طلباء کے لیے 60 ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ یوحنا آباد میں لائیو کورسز کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے پہلے مرحلے میں 1,000 اور دوسرے میں 10,000 طلباء مستفید ہوں گے۔مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں بیساکھی، ہولی، دیوالی، کرسمس اور ایسٹر پہلی بار سرکاری سطح پر بھرپور طریقے سے منائے گئے ہیں، جبکہ صوبے میں اقلیتی کوٹہ سسٹم پر من و عن عمل ہو رہا ہے۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پنجاب ایک ایسا معاشرہ بنائے گا جہاں محبت، رواداری اور بھائی چارہ شناخت بنے گا، اور اقلیتوں کا یہ خوبصورت رنگ کبھی ماند نہیں پڑنے دیا جائے گا۔