لکھنؤ/کھٹمنڈو: بھارت اور نیپال شدید موسمی حالات کی لپیٹ میں آ گئے، بدھ سے جاری طوفانی بارشوں، آسمانی بجلی اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 92 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ مزید خراب موسم کی پیشگوئی نے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
بھارت میں صورتحال:
بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق:
مشرقی ریاست بہار میں 64 افراد ہلاک ہوئے۔اتر پردیش میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔دیگر متاثرہ علاقے: جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور اوڈیشہ بھی شدید موسمی اثرات کی زد میں ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر ہلاکتیں آسمانی بجلی گرنے، مکانات گرنے اور درختوں کے گرنے کے باعث ہوئیں۔
نیپال کی صورتحال:
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق:
8 افراد آسمانی بجلی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جاں بحق ہوئے۔متعدد افراد زخمی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مزید خطرہ برقرار:
آئی ایم ڈی نے مشرقی اور وسطی بھارت میں مزید بارش اور طوفانی ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے۔جنوبی بھارت میں مون سون کا آغاز قریب ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے روایتی پیٹرن کو متاثر کیا ہے۔اپریل 2025 کو IMD نے غیر معمولی گرم مہینہ قرار دیا، جس کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔
حکومتی اقدامات:
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں۔شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، محفوظ مقامات پر رہنے اور موسمی اپ ڈیٹس پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں مختلف ریاستوں کے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات یا متاثرہ علاقوں کے لیے جاری الرٹس کی فہرست بھی فراہم کر سکتا ہوں۔