نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلہ، ہلاکتیں 162 تک پہنچ گئیں، 579 سیاح لاپتہ

نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلہ، ہلاکتیں 162 تک پہنچ گئیں، 579 سیاح لاپتہ

کٹھمنڈو: نیپال کے ضلع راسووا میں اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 162 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 579 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 متاثرہ علاقوں میں امدادی اور سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم دشوار گزار راستوں اور شدید تباہی کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلابی ریلے نے نیپال کے سرحدی اور سیاحتی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد مکانات، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچے کے دیگر منصوبے سیلابی پانی اور ملبے کی زد میں آ کر تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔نیپال کے سیاحتی حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں 400 سے زائد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق لاپتہ غیر ملکیوں میں 142 بھارتی، 54 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی، 24 کینیڈین، 17 ملائیشین اور 53 یوکرینی شہری شامل ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا، جنوبی افریقا، پرتگال اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر امدادی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے گیرونگ میں بھی قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔

 چینی سرکاری میڈیا کے مطابق علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے بعد 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں تقریباً 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ وہاں اب تک 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں سیلاب اور مٹی کے تودوں نے مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ متعدد سڑکیں ملبے تلے دب گئی ہیں جبکہ بجلی کے منصوبوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔امدادی اداروں کے مطابق کئی علاقوں میں سڑکیں اور راستے بند ہونے کے باعث امدادی سامان پہنچانے اور لاپتہ افراد تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں ملبے اور کیچڑ میں پھنسے افراد کی تلاش کر رہی ہیں، جبکہ متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رابطہ نہ ہونے کے باعث لاپتہ افراد کی اصل تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نقصان کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔