ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط کیلئے پاکستان کا گرین بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ

ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط کیلئے پاکستان کا گرین بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ

حکومت پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز (RSF) کی پہلی قسط حاصل کرنے کے لیے گرین بانڈز کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔

 یہ بانڈز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جاری کیے جائیں گے، اور ان کی مالیت 30 ارب روپے ہو گی۔ گرین بانڈز کا اجرا آئی ایم ایف کی مشاورت سے پہلی بار سٹاک ایکسچینج میں کیا جائے گا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔یہ بانڈز تقریباً تین سال کی میچورٹی کے ساتھ ہوں گے، اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ان کا اجرا عمل میں لایا جائے گا۔ گرین بانڈز کا اجرا پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو فنانس فراہم کرے گا، اور آئی ایم ایف کی شرط یہ ہے کہ پاکستان کو اس فنانسنگ کے ذریعے موسمیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق، اس اقدام کے تحت پاکستان کو ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط صرف اس صورت میں ملے گی جب یہ بانڈز جاری کیے جائیں گے اور اس کے نتیجے میں موسمیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز حاصل ہوں گے۔ آئی ایم ایف اس عمل کی مانیٹرنگ کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام اہداف پورے کیے جائیں۔چائنیز مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کا اجرا نومبر یا دسمبر 2025 میں متوقع ہے، لیکن اس سال کے دوران پانڈا بانڈز کا اجرا نہیں ہو سکے گا۔ 30 کروڑ ڈالر کی مالیت کے پانڈا بانڈز چین میں متوقع ہیں، تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ رواں مالی سال میں ان بانڈز کا اجرا نہیں ہو سکے گا۔

 وزیر خزانہ نے جولائی میں چین کے وزٹ کے دوران چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن سے 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈ جاری کرنے کے لیے گارنٹی کی درخواست کی تھی۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے شدہ منصوبے کے مطابق، 1.30 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط اپ فرنٹ نہیں دی جائے گی، اور اس کے حصول کے لیے پاکستان کو 13 اہداف پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف موسمیاتی منصوبوں کی پیشرفت کو مانیٹر کرے گا۔