حکومت کا بڑا فیصلہ، پرائز بانڈز اور قرضوں کے منافع پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ

حکومت کا بڑا فیصلہ، پرائز بانڈز اور قرضوں کے منافع پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ

حکومتِ پاکستان نے پرائز بانڈز اور قرضوں پر حاصل ہونے والے منافع پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

 اس حوالے سے قومی بچت اسکیم (CDNS) کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

ٹیکس کی نئی شرحیں:
نوٹیفکیشن کے مطابق:ٹیکس فائلرز کے لیے قرض پر حاصل منافع پر 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔نان فائلرز (ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والے افراد) کے لیے یہ شرح 30 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
پرائز بانڈز اور قومی بچت اسکیمیں متاثر
یہ نیا ٹیکس نظام خاص طور پر ان افراد کو متاثر کرے گا جو:پرائز بانڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں.قومی بچت اسکیموں جیسے بہبود اسکیم، پنشنر اکاؤنٹ، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس سے منافع حاصل کرتے ہیں
حکومت کا مؤقف
قومی بچت اسکیم کے ترجمان نے وضاحت کی کہ:"یہ اقدام حکومت کے وسیع تر ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور محصولات میں شفافیت لانا ہے۔"
ترجمان نے مزید کہا کہ:"حکومت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکس فائلرز بنیں تاکہ وہ کم شرح پر ٹیکس ادا کر سکیں اور مراعاتی پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں۔"
تجزیہ
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ غیر فائلرز پر دباؤ بڑھائے گا تاکہ وہ ٹیکس نیٹ میں آئیں، تاہم اس سے قرض و بچت کی حوصلہ شکنی بھی ہو سکتی ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو ریٹائرڈ یا محدود آمدنی رکھتے ہیں اور ابھی تک فائلر نہیں بنے۔