سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
رمضان کہنے کوتومہمان ہے،مگریہ ماہِ رحمت درحقیقت ہمیں یہ احساس دلانے آتاہے کہ پوراسال اللہ تبارک وتعالی ہم پرجواپنی بے شمارنعمتوں کی بے حساب بارشیں کرتارہتاہے،ہمیں ان کی صحیح قدرنہیں ہوتی اورمحض ایک مہینہ صرف دن کے اوقات میں ان نعمتوں سے دوری ہمیں ان کی اہمیت بتا دیتی ہے ،کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہر اس چیزکی قدرکرتاہے،جواس کی پہنچ سے دورہو۔پھریہ بھی دیکھنے میں آیاہے کہ کچھ افراد،بالخصوص نوجوان رمضان کا پورا مہینہ توباقاعدگی سے نمازوں اوردیگرعبادات کااہتمام کرتے ہیں،مگرعیدکاچاندنظرآتے ہی ایسے غافل ہوتے ہیں،جیسے شیطان ان ہی کیانتظارمیں تھا ۔یادرکھیے!رمضان رحمتیں،برکتیں،گناہوں کوبخشوانے،اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کاتومہینہ ہے ہی،لیکن یہ"ماہِ تربیت" بھی ہے،یعنی اس ماہ جتنے نیک اعمال اورعبادات کی جاتی ہیں،اگروہ سال کے گیارہ مہینے ہمارے معمولات میں شامل نہیں ہوتیں،تویہ افسوس کامقام ہے۔
اگررمضان المبارک میں اپنائے گئے اچھے اعمال کااثرہماری روزمرہ زندگیوں پرنہیں پڑ رہا ،تویہ لمحہ فکریہ ہے۔ہمیں رمضان کریم کی اصل روح کو پہچاننا ہوگا۔اپنامحاسبہ کرناہو گا کہ اس جیساپاکیزہ مہینہ بھی اگرہماری زندگیوں میں مستقل تبدیلی نہیں لاپارہا توکمی کیااورکہاں ہے۔ رمضان تواپنی بہاریں ویسے ہی لیے ہوئے آتاہے،مسئلہ توہم میں، ہماری سمجھ اور ہمارے کردارمیں ہے۔انسان چونکہ مادی اور جسمانی پہلوکے علاوہ معنوی اورروحانی پہلوکابھی حامل ہے توان پہلوں کے کمال تک پہنچنے کیلئے خاص طریقہ کارہیں،معنوی پہلوکی پرورش اورطاقت کاایک طریقہ تقویٰ اورپرہیزگاری ہے،یعنی اگرانسان اپنے آپ کو معنوی پہلوکے لحاظ سے ترقی دیناچاہے اورمطلوبہ طہارت وکمال تک پہنچناچاہے،تواسے اپنی نفسانی خواہشات پرغالب ہوناپڑے گااور کمال کے راستے میں موجودہ رکاوٹوں کویکے بعددیگرے ہٹاناہوگااورجسمانی لذتوں اور شہوتوں میں مصروفیت سے بچناپڑے گا۔
تقویٰ ہراس آدمی کی زندگی کالازمہ ہے جوعقل کے حکم کے تحت زندگی بسرکرتاہواسعادتمندانہ حیات تک پہنچناچاہتاہے۔دینی اور الہٰی تقویٰ یہ ہے کہ انسان ان اصول پرعمل پیر ا ہوجن کودین نے زندگی کیلئے مقررکیاہے اورگناہ سے اپنے آپ کوبچائے۔انسان کو اپنی روح میں ایسی کیفیت اورطاقت پیدا کرنی پڑے گی جواسے گناہ سے سامناہوتے ہوئے، گناہ سے محفوظ کرلے یہاں تک کہ تقوی کی طاقت کے ذریعے اپنے نفس اورنفسانی خواہشات پرغلبہ پالے اور اپنے دامن کواللہ کی معصیت اورگناہ کرنے سے آلودہ نہ کرے۔ قرآن مجیدکی نظرمیں ہرعبادت کی قبولیت کی شرط تقوی اورپرہیزگاری ہے، جہاں ارشادالہی ہے:ِاللہ صرف صاحبان تقوی کے اعمال کوقبول کرتاہے۔
روزہ اورتقوی کاآپس میں گہراتعلق ہے،جس کی وضاحت قرآن وحدیث میں تفصیل سے کی گئی ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں روزے کا بنیادی مقصد تقوی کا حصول قرار دیا ہے۔تقوی کیلئے مؤثراورمفیدایک عمل،روزہ ہے جس کی مشق کرتے کرتے انسان اس بات کوسیکھ لیتاہے اورسمجھ جاتاہے کہ اپنی لگام کوہواوہوس کے ہاتھوں میں نہ تھمادے اوریہ بالکل عین تقوی ہے۔روزہ کامقصدتقوی کاحصول ہے،قرآن کریم میں پروردگارکاارشاد ہے: صاحبانِ ایمان تمہارے اوپرروزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پرلکھے گئے تھے شایدتم اسی طرح متقی بن جاؤ۔
(لعلم تتقون تاکہ تم تقوی حاصل کرو)اس آیت میں روزے کی فرضیت کابنیادی مقصدتقویٰ پیداکرناہے۔تقویٰ کامطلب ہے اللہ کاخوف گناہوں سے بچنا،اورنیکیوں کی طرف رغبت اوراحکامات الہی کی پابندی ہے۔روزے کے ذریعے انسان اپنی نفسانی خواہشات،لالچ،اورغلط عادات کوکنٹرول کرتااور عملی تربیتی نظام فراہم کرتاہے اوراپنی روحانی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتاہے،جوکہ تقوی کی بنیادہے۔نبی اکرم ﷺنے بھی روزے کوتقوی کے حصول کاذریعہ قراردیاہے۔(صحیح بخاری:1894،صحیح مسلم:1151 ) روزہ(گناہوں سے بچنے کیلئے)ایک ڈھال ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ روزہ انسان کوبرے اعمال،خواہشاتِ نفس اورشیطانی وسوسوں سے بچاتاہے،جوتقویٰ کی علامت ہے۔
چونکہ روزہ کامقصدتقوی حاصل کرناہے توانسان روزہ رکھنے سے کچھ چیزوں سے پرہیزکرنے اوربعض لذتوں سے محروم رہنے کی مشق کرتے ہوئے حرام سے پرہیزکرنے اوراللہ کے احکام کوبجالانے پرتیارہوجاتاہے۔جب انسان کاگناہ سے سامناہوتاہے تووہاں تقوی اختیارکرناچاہیے اورتقوی اختیارکرنا پختہ ارادہ کے بغیرممکن نہیں،روزہ کاہدف چونکہ تقویٰ کاحصول ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ روزہ ایسی چیزہے جوانسان کوگناہ سے بچاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:روزہ(جہنم کی)آگ کے سامنے ڈھال ہے۔
روزہ تقویٰ کی عملی تربیت کابہترین ذریعہ ہے۔یہ انسان کواللہ کے قریب کرتاہے،نفس کوپاکیزہ بناتاہے،اورمعاشرے میں رحم دلی پھیلاتاہے۔قرآن وحدیث میں اس ربط کوبار بارواضح کیاگیاہے تاکہ مومن روزے کوصرف ایک رسم نہ سمجھے،بلکہ اسے اپنی زندگی میں تقویٰ کی روشنی پھیلانے کاذریعہ بنائے۔تقویٰ کی تعریف تویہ ہے کہ ہرحال میں اللہ کی ناراضگی سے ڈرنا، ہر حال میں اس کی رضا کو ترجیح دینا،ہر قسم کے گناہوں(چھوٹے ہوں یا بڑے)سے بچنا،اورروزہ انسان کوبھوک، پیاس،اورجنسی خواہشات جیسی بنیادی ضرورتوں پرقابوپاناسکھاتاہے۔یہی قابوتقویٰ کی پہلی سیڑھی ہے اورروزہ ان تمام پہلوں کومضبوط کرتاہے۔پھریہی نہیں روزہ روحانی پاکیزگی کابہترین زینہ ہے۔اسی لیے ارشاد ربانی ہے:اے لوگوں جوایمان لائے ہو،اللہ سے ڈروجیساکہ اس سے ڈرنے کاحق ہے،تم کوموت نہ آئے مگراس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
روزہ دارغریبوں کی تکلیف کومحسوس کرتاہے،جس سے اس میں ہمدردی اورصدقہ وخیرات کاجذبہ بیدارہوتاہے۔رسول اللہﷺنے فرمایا : جوشخص روزہ دارکوافطارکرواتاہے،اسے بھی روزہ دارکے برابراجرملتاہے۔سنن ترمذی:807)روزہ تقوی کی عملی تربیت کابہترین ذریعہ ہے۔یہ انسان کواللہ کے قریب کرتاہے،نفس کوپاکیزہ بناتاہے،اورمعاشرے میں رحم دلی پھیلاتاہے۔قرآن وحدیث میں اس ربط کوباربارواضح کیاگیاہے تاکہ مومن روزے کوصرف ایک رسم نہ سمجھے،بلکہ اسے اپنی زندگی میں تقوی کی روشنی پھیلانے کاذریعہ بنائے۔
تقوی اورروزے کاآپس میں اتناگہراتعلق ہے کہ تقوی کے معنی اپنے آپ کوبچانااورروکناہے،اورروزہ کامطلب بھی امساک اورایک طرح کااپنے آپ کوبچاناہے۔ان کا آپس میں فرق یہ ہے کہ تقوی،ہراس چیزسے نفس کوبچاناہے جوانسان کے نفس اورتقواکونقصان پہنچاتی ہے،لیکن روزہ خاص مقررکردہ چیزوں سے پرہیزہے جوروزہ کے باطل ہونے کاباعث ہیں اورروزہ دارکوتقوی تک پہنچنے میں رکاوٹ ہیں۔اس تعریف کے مطابق تقوی اوراس کے مصادیق کی حد،روزہ کی حدسے زیادہ وسیع ہے۔لہذاان چیزوں سے بچناجوروزہ کوباطل کرتی ہیں،تقوی تک پہنچنے کاسبب ہے۔اس بات کے پیش نظرکہ روزہ کے ذریعے انسان کوتقوی حاصل کرناہے تواگرروزہ کی حالت میں ایک طرف سے انسان کوکھانے پینے اوردیگرکچھ کاموں سے منع کیاگیاہے تو دوسری طرف سے ایسے اعمال بجالانے کاحکم بھی دیاگیاہے جوایمان وعمل کی مضبوطی کاباعث ہیں،جیسے واجب ومستحب نمازیں پڑھنا،قرآن کریم کی تلاوت، صلوات ،استغفار، دعاو مناجات،غریبوں کی مدد،صلہ رحمی،اخلاق کواچھاکرنااورکئی دیگراعمال۔
ہم انسان ہیں۔خطاکارہیں۔ہم لاکھ چاہیں کہ دل آزاری نہ کریں۔کسی کی عزت نفس پامال نہ کریں۔کسی کودکھ نہ دیں۔لیکن ہوجاتی ہے غلطی۔لیکن انسان وہ ہے جواپنی غلطی مانے اورجس کی حق تلفی ہوئی ہے اس سے معذرت کرے۔ وہ انسان جوتائب ہو جائے وہی منزل پرپہنچتاہے۔رمضان المبارک کے پرمسرت موقع پرہم سب کوچاہئے کہ رنجشیں ختم کردیں ۔ ہوجاتاہے،انسان ہے،سومعاف کردیں انہیں گلے سے لگائیں۔جوروٹھ گئے ہیں،انہیں منائیں اس دکھ بھری زندگی میں دن ہی کتنے ہیں کہ ہم اسے جہنم بنادیں۔ میرا ایک بہت پاگل سادوست ہے بہت باکمال لیکن بالکل ان پڑھ۔،میرا رب اسے سلامت رکھے۔ ہروقت ایک ہی بات کرتاہے’’'دودناں دی زندگی تے فیرانھیری رات '‘‘ایک دن ہم نے پوچھا رب سے معافی کیسے مانگیں توکہابہت آسان ہے۔اس کے بندوں کومعاف کرواورپھررب سے کہو،میں توتیرا بندہ ہوکرتیری مخلوق کومعاف کرتاہوں،توتوہم سب کارب ہے،ہمیں معاف کردے۔ سومعاف کردئیے جاگے جوکسی بندے بشرکو معاف نہ کرے۔خودکیسے معاف کردیاجائے گا۔
آپ سب بہت خوش رہیں۔میرارب آپ کی زندگی سکون وآرام سے بھردے۔آپ سدامسکرائیں،آپ کی زندگی میں کوئی غم نہ آئے۔بہار آپ کامقدر بن جائے۔ہر شب شبِ برات بن جائے۔
میں شیشہ گرنہیں،آئینہ سازی تونہیں آتی
جودل ٹوٹے توہمدردی سے اس کوجوڑدیتاہوں