سعودی عرب: صحرائے العلا میں واقع سنہرے ریتیلے صحراء میں ایک نایاب اور دلچسپ قدرتی عجوبہ موجود ہے جسے ’فش راک آف وادی الفن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ عجوبہ مچھلی کی شکل میں ہے اور لمبائی میں تقریباً 200 میٹر ہے، جو صحرائی مناظر میں ایک حیرت انگیز نظارہ پیش کرتا ہے۔رائل کمیشن فار العلا (RCU) کے مطابق، یہ مچھلی نما شکل تقریباً 500 ملین سال قبل قدیم دریائی نظاموں کی کٹاؤ کے نتیجے میں بنی، جب یہ علاقہ زمین کے براعظم گونڈوانا کا حصہ تھا۔ یہ تاریخی قدرتی نقش آج العلا کے منفرد صحرائی خزانوں میں سے ایک ہے اور آر سی یو کے ’جرنی تھرو ٹائم ماسٹر پلان‘ کے تحت فنون، ثقافت اور ورثے کے لیے محفوظ رکھا جا رہا ہے۔اس عجوبے نے 2022ء میں زیادہ شہرت حاصل کی جب سعودی فوٹوگرافر خالد العنزی نے ڈرون کیمرا سے اس کی شاندار تصاویر بنائیں اور اسے ’صحرائی مچھلی‘ کا نام دیا۔
ان تصاویر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے۔فش راک آف وادی الفن نہ صرف سائنسدانوں اور محققین کے لیے اہم ہے بلکہ سیاحتی لحاظ سے بھی العلا کا ایک پرکشش مقام بن چکا ہے، جو قدرتی تاریخ اور جمالیات کے شوقین افراد کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔