انٹرنیٹ پر ڈیٹا کیسے چوری ہوتا ہے اور محفوظ کیسے بنایا جائے؟ ماہرین کی اہم تجاویز

انٹرنیٹ پر ڈیٹا کیسے چوری ہوتا ہے اور محفوظ کیسے بنایا جائے؟ ماہرین کی اہم تجاویز

حال ہی میں چیئرمین پی ٹی اے کے اس انکشاف کے بعد کہ پاکستانیوں کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کے لیے موجود ہے، ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 اس پس منظر میں ایک سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ پر ڈیٹا کن طریقوں سے چوری ہوتا ہے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔

ڈیٹا چوری کے ذرائع
سائبر سکیورٹی ماہر کے مطابق ڈیٹا بنیادی طور پر دو سطحوں پر چوری ہوتا ہے:

انفرادی سطح پر: جب کوئی شخص موبائل فون یا ذاتی ڈیوائس استعمال کرتا ہے اور غیر محفوظ ایپس یا ویب سائٹس پر اپنی معلومات فراہم کرتا ہے۔
تنظیموں کی سطح پر: جب ادارے یا کمپنیاں اوپن سورس سافٹ ویئر، فری ایپس یا کریک شدہ سافٹ ویئر استعمال کرتی ہیں اور اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ نہیں رکھتیں، تو ہیکرز کے لیے ان کے ڈیٹا تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ماہر نے بتایا کہ ہیکرز قطرہ قطرہ معلومات جمع کرتے ہیں، یعنی مختلف ویب سائٹس سے چھوٹے چھوٹے حصے لے کر بعد میں انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور مکمل پروفائل تیار کر لیتے ہیں۔

خطرناک عادات
اوپن سورس یا غیر رجسٹرڈ سافٹ ویئر کا استعمال
فری ایپس اور کریک شدہ پروگرامز ڈاؤن لوڈ کرنا
سسٹمز کو اپ ڈیٹ نہ کرنا
کمزور پاس ورڈز کا استعمال
یہ سب ہیکرز کے لیے آسان راستے فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکیں۔

ماہر کی تجاویز
سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ نے انٹرنیٹ صارفین اور تنظیموں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا:صرف رجسٹرڈ اور محفوظ سافٹ ویئر استعمال کریں۔موبائل فون اور کمپیوٹر کے سسٹمز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔فری ایپس اور کریک شدہ سافٹ ویئر سے گریز کریں۔مضبوط اور منفرد پاس ورڈز رکھیں، ساتھ ہی ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال کریں۔مشکوک ویب سائٹس اور لنکس سے دور رہیں۔