’ڈومز ڈے فِش‘: کیا واقعی یہ مچھلی قدرتی آفات کی پیش گوئی کرتی ہے؟

’ڈومز ڈے فِش‘: کیا واقعی یہ مچھلی قدرتی آفات کی پیش گوئی کرتی ہے؟

 ڈومز ڈے فِش جسے عام زبان میں "اؤر فِش" (Oarfish) بھی کہا جاتا ہے، ایک نایاب سمندری مخلوق ہے، اور اس کے متعلق مختلف روایات اور کہانیاں موجود ہیں کہ یہ قیامت یا بڑے آفات کی نشانی ہوسکتی ہے۔

اصل میں، اؤر فِش ایک لمبی، سرمائی اور نایاب سمندری مچھلی ہے، جو کہ گہرے سمندر میں رہتی ہے۔ اس کی لمبائی بعض اوقات 8 میٹر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ چونکہ یہ عموماً گہرے پانی میں رہتی ہے، اس لیے اس کا سطح پر نظر آنا بہت کم ہوتا ہے اور اکثر لوگ اسے بیمار یا زخمی حالت میں سطح پر پاتے ہیں۔

روایات اور عقائد:
جاپان اور فلپائن میں ایک قدیم روایت ہے کہ اگر یہ مچھلی ساحل پر یا پانی کی سطح پر دیکھی جائے، تو یہ آنے والی زلزلہ، سونامی یا کسی بڑے قدرتی آفت کی علامت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر، 2011 میں جاپان میں زلزلہ اور سونامی سے پہلے کچھ لوگوں نے ایسی مچھلیاں ساحل پر دیکھی تھیں، جس سے یہ تصور عام ہوا کہ یہ پیشگوئی کی ایک شکل ہے۔

سائنسدانوں کا موقف:
سائنسدان اس تصور سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اؤر فِش کا سطح پر آنا یا ساحل پر نظر آنا اکثر بیماری یا زخمی حالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب یہ مچھلی سطح پر آتی ہے، تو اس کی حالت عموماً غیر معمولی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر کسی بڑے آفت کی پیشگوئی کا سبب نہیں بنتی۔سائنس کے مطابق، اس کا سطح پر آنا صرف ایک قدرتی یا ماحولیاتی عمل ہو سکتا ہے، اور اس کا کسی تباہی یا قیامت کی نشانی ہونے کا کوئی قوی ثبوت موجود نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ روایت زیادہ تر عوامی عقیدہ اور کہانیوں پر مبنی ہے، نہ کہ سائنسی حقائق پر۔