قصور: بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات زیرِ آب آگئے اور کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 20.20 فٹ تک جا پہنچی ہے جبکہ بہاؤ ایک لاکھ 1 ہزار 395 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غیر معمولی پانی کی آمد سے سیکڑوں ایکڑ زرعی زمین ڈوب گئی ہے اور دیہات میں تباہی مچ گئی ہے۔متعدد مقامات پر حفاظتی پشتے ٹوٹنے سے مقامی آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر دریا کے کنارے آباد بستیوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور انخلا کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پولیس کی مدد بھی طلب کر لی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر عمران علی نے کہا ہے کہ پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور انخلا کے عمل میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت ماضی میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے سے قبل کم از کم 18 گھنٹے پہلے اطلاع دیتا تھا لیکن اس مرتبہ کوئی پیشگی اطلاع یا رابطہ نہیں کیا گیا۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔