برازیل میں صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد دائیں بازو کے رہنما اور سینیٹر فلیویو بولسونارو کی امریکا آمد نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ سفری دستاویزات جمع کرانے سے متعلق عدالتی حکم پر عمل کیے بغیر برازیل سے امریکا روانہ ہوئے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے ویزے جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق فلیویو بولسونارو منگل کو برازیل سے امریکا روانہ ہوئے۔ اس سے قبل وہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بائیں بازو کے رہنما اور دوبارہ منتخب ہونے والے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے شکست کھا چکے تھے۔ ذرائع کے مطابق فلیویو بولسونارو امریکی ریاست فلوریڈا میں اپنے بھائی ایڈوارڈو بولسونارو سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔
امریکا روانگی کا راستہ تاحال معمہ
فلیویو بولسونارو نے برازیل سے کس راستے کے ذریعے امریکا کا سفر کیا اور آیا وہ وہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں، اس بارے میں اب تک واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ برازیل کی وفاقی پولیس نے ان کی ممکنہ روانگی کا سراغ لگانے کے لیے ارجنٹائن کے حکام سے بھی رابطہ کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن کے حکام نے سرحدی شہر پورٹو ایگوازو کے ہوائی اڈے پر موجود ایک نجی طیارے اور اس سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی۔ تاہم حکام کا کہنا تھا کہ طیارے کے پرواز منصوبے میں بولسونارو خاندان کے کسی فرد کا نام درج نہیں تھا۔ اس لیے اس طیارے کے ذریعے فلیویو بولسونارو کی روانگی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
عدالتی حکم اور تحقیقات
فلیویو بولسونارو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق تحقیقات کی زد میں ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ برازیل کی سپریم کورٹ نے انہیں سفری دستاویزات حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔عدالتی حکم کے باوجود ان کی امریکا آمد نے ان کے سفر کے قانونی پہلوؤں اور برازیل میں جاری تحقیقات کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔ تاہم ان کی روانگی کے مکمل حالات اور امریکا میں قیام سے متعلق حتمی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
صدر لولا دا سلوا کا ردعمل
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اپنے سیاسی حریف کی امریکا میں موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں، انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔لولا دا سلوا کے اس بیان کو فلیویو بولسونارو سے متعلق جاری تحقیقات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، تاہم بیان میں ان کے سفر کے قانونی معاملات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فلیویو بولسونارو اور ان کے اہل خانہ کو ویزے جاری کیے جائیں گے۔ اس بیان کے باوجود ان کی امریکا روانگی کے مکمل حالات، سفری دستاویزات سے متعلق عدالتی حکم کی صورتِ حال اور امریکا میں ان کے مستقبل کے قیام کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔