ویب ڈیسک: بھارتی افواج کے تین پاکستانی فضائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پاکستان نے شدید اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کی صبح 5 بجے "آپریشن بنیان المرصوص" (آہنی دیوار) کا آغاز کر دیا، جس کے دوران بھارت کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جوابی کارروائی میں بھارتی ایئر بیسز سمیت 26 اہم فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی فضائیہ کی ترجمان ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے پریس بریفنگ میں اعتراف کیا کہ پاکستان نے ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کے ذریعے حملے کیے۔ترجمان کے مطابق پاکستان نے ادھم پور، پٹھان کوٹ اور پنجاب کے ہوائی اڈوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ بھارتی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ رات 1:40 پر پنجاب ایئربیس کو تیز رفتار میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دیگر مقامات پر بھی بیک وقت کئی حملے کیے گئے۔پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن کے دوران بھارت کو جدید روسی ساختہ S-400 سسٹم، چار ایئربیسز، پانچ ایئرفیلڈز، دو براہموس میزائل اسٹوریج سائٹس، ایک دہشت گردی کا کیمپ، بریگیڈ ہیڈکوارٹر، سپلائی ڈپو، آرٹلری پوزیشنز اور لائن آف کنٹرول پر متعدد فوجی پوسٹوں کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید برآں، سیالکوٹ کے قریب ایک بھارتی رافیل طیارہ اور ایک بڑا ڈرون مار گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم ان کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب دہلی اور گجرات کی فضاؤں میں بھی پاکستانی ڈرونز کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی میڈیا اداروں اے این آئی اور ٹی وی 9 نے ادھم پور ایئربیس سے دھوئیں کے بادل اٹھنے اور سرسہ ایئرفیلڈ پر دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ پٹھان کوٹ، پونچھ اور جموں ایئر بیسز پر بھی حملوں کا اعتراف سامنے آیا ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق، یہ کارروائی بھارتی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور دشمن کو باز رکھنا ہے۔