لبنان کے دارالحکومت بیروت سمیت مختلف علاقوں میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ طبی سہولیات اور ضروری سامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے فضائی حملوں میں ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں زخمی مختلف اسپتالوں میں منتقل کیے گئے۔ بیروت کے ایک اسپتال میں صرف ایک گھنٹے کے دوران 70 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں متعدد افراد دم توڑ گئے۔لبنانی وزارت صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات عمارتوں کے گرنے اور دھماکوں کے نتیجے میں شدید چوٹوں کی وجہ سے ہوئیں۔طبی عملے کے مطابق اسپتالوں میں لائے جانے والے شدید زخمیوں میں کم عمر بچے اور شیر خوار بھی شامل ہیں، جنہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔لبنانی ریڈ کراس نے صورتحال کو “انتہائی سنگین” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ چلنے والا صحت کا نظام اب مکمل دباؤ میں آ چکا ہے۔
اسپتالوں میں ادویات، آکسیجن اور طبی آلات کی شدید قلت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو چند دنوں میں اہم طبی سامان ختم ہو سکتا ہے، جس سے بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق لبنان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے، اور موجودہ صورتحال نے صحت کے نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث اسپتال جنریٹرز پر چل رہے ہیں، جس سے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب شہری بڑی تعداد میں خون کے عطیات دے کر متاثرین کی مدد کر رہے ہیں، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اصل حل جنگ بندی اور تشدد کا خاتمہ ہے۔