سابق یو اے ای سفیر حسین حسن مرزا نے کہا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ایک فون کال اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انٹرویو میں مرزا نے بتایا کہ بھارت کا عالمی اثر و رسوخ اور مودی کے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے اور صرف ایک کال کے ذریعے دونوں ممالک کو جنگ روکنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔سابق سفیر نے مزید کہا کہ مودی حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ بھارت ایران کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، اس لیے وہ اس تنازع میں مؤثر سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔مرزا نے یہ بھی بتایا کہ یو اے ای نے اپنی سر زمین کو ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی، جبکہ دیگر خلیجی ممالک جیسے کویت اور قطر نے بھی ایران پر حملے کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں کرے گا، خاص طور پر اس لیے کہ یو اے ای میں 35 لاکھ سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں سے ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔