دنیا کے 28 مغربی ممالک نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کا مشترکہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی تکالیف "نئی گہرائیوں تک پہنچ چکی ہیں" اور اسرائیل کی امدادی پالیسی "خطرناک اور غیر انسانی" ہے۔
ان ممالک نے اسرائیل کے مجوزہ "ہیومینیٹیرین سٹی" منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس کے تحت غزہ کے شہریوں کو جنوبی علاقے رفح میں زبردستی منتقل کیا جا رہا ہے۔برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، آسٹریلیا، جاپان، نیدرلینڈز، ناروے، نیوزی لینڈ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک سمیت 28 ریاستوں کے وزرائے خارجہ نے پیر کو جاری کردہ بیان میں اسرائیل سے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل کا مطالبہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ:"غزہ میں شہریوں کی تکالیف نئی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا امدادی ماڈل خطرناک ہے، جو عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے اور انسانی وقار کو پامال کرتا ہے۔"بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کی حمایت یافتہ امدادی اسکیم کے مقامات پر روزانہ شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں، جہاں اسرائیلی فوج براہ راست فائرنگ سے بھیڑ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب تک امداد کے متلاشی 800 سے زائد فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔
"ہیومینیٹیرین سٹی" منصوبے پر سخت مذمت
وزرائے خارجہ نے جنوبی غزہ میں اسرائیلی حکومت کے "ہیومینیٹیرین سٹی" منصوبے کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے کہا:"فلسطینی آبادی کو زبردستی منتقل کرنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔"اس منصوبے کے تحت غزہ کے شہریوں کو رفح کے کھنڈرات میں محدود کیا جائے گا جبکہ باقی علاقوں میں اسرائیلی افواج حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ اسرائیل کی اپنی فوج اور حزب اختلاف نے بھی اس منصوبے کو "غیر عملی" اور "انتہائی خطرناک" قرار دیا ہے، جب کہ سابق وزیراعظم ایہود اولمرت نے اسے "کنسنٹریشن کیمپ" سے تشبیہ دی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کا سخت ردعمل
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ "حقیقت سے منقطع ہے اور حماس کو غلط پیغام دیتا ہے۔"بیان میں کہا گیا:"تمام الزامات کا رخ اس فریق کی طرف ہونا چاہیے جس نے یہ جنگ شروع کی: حماس۔"وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ حماس امدادی سامان پر قبضہ کر کے اسے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے امدادی نظام کو "غیر محفوظ" قرار دے کر اس سے تعاون سے انکار کر رکھا ہے۔اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا:"یہ قابلِ نفرت ہے کہ 28 ممالک اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ حماس ہر جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر رہی ہے۔ اسرائیل پر الزام لگانا غیر معقول ہے۔"
برطانیہ کا سخت مؤقف
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو "غیر انسانی" قرار دیا۔ انہوں نے کہا:"نیا امدادی نظام ایک بھیانک تماشا ہے، جو انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ اسرائیل کو جواب دینا ہوگا کہ مایوس اور بھوکے بچوں پر فائرنگ کا کیا فوجی جواز ہو سکتا ہے؟"انہوں نے کہا کہ:"اسرائیلی حکومت کے اقدامات نہ صرف عالمی سطح پر اس کے وقار کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ اس کی طویل المدتی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔"
جنگ بندی کی اپیل اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ
28 ممالک کے بیان میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اغوا کیے گئے یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ:"جنگ بندی ہی ان یرغمالیوں کو گھر لانے کی بہترین امید ہے۔"
کون سے ممالک نے بیان پر دستخط کیے؟
اس اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں:برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، اٹلی، جاپان، ناروے، نیوزی لینڈ، نیدرلینڈز، آئرلینڈ، بیلجیئم، فن لینڈ، پرتگال، اسپین، آئس لینڈ، آسٹریا، ایسٹونیا، لیتھوانیا، لٹویا، لکسمبرگ، ڈنمارک، سلووینیا، پولینڈ، مالٹا، چلوے، سلووینیا، اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ۔تاہم جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری اور سلواکیہ جیسے چند یورپی ممالک نے اس بیان پر دستخط نہیں کیے۔ جرمن وزیر خارجہ کے مطابق، وہ اسرائیل کے سیکیورٹی خدشات کو اہم سمجھتے ہیں۔