کابینہ ارکان کا2 ماہ تنخواہ نہ لینے کافیصلہ‘سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں50فیصد کمی ہفتے میں4دن کام‘2چھٹیاں اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد آگے آئیں:شہبازشریف
ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوںسے25فیصد کٹوتی ہوگی‘ وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اوپر، تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسروں کی 2دن کی تنخواہ کی کٹوتی ہوگی‘رواں ہفتے کے آخر سے تمام سکولوں میں2ہفتے کیلئے چھٹیاں
جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں 2 ماہ کیلئے گرائونڈ کی جائیں گی‘سرکاری اور نجی شعبوں میں50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا
بردار مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے :وزیراعظم کا قوم سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، نئی اشیا اور سرکاری گاڑیوں کی خریداری، سرکاری دوروں، سرکاری ضیافتوں پر پابندی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول آدھا کردیا گیا، وزرا و مشیران دو ماہ کی تنخواہ و الانسز چھوڑ دیں گے، سرکاری افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی ہوگی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کے لیے اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا۔وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، کیے گئے فیصلے تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔ حکومت نے جون 2026 تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔ کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمان اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی، پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا۔ ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔ تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کے لیے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراونڈ کی جائیں گی جب کہ جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیر اور معاونین رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاونسز چھوڑ دیں۔ تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اوپر، تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسروں کی دودن کی تنخواہ کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے غیرترقیاتی بجٹ میں بیس فیصد کٹوتی کا اعلان کیا گیا، بجٹ کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطا ب میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیاں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم بردار مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے‘اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں ‘اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیںہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلئے آگے گے بڑھ کر قربانی دی