واشنگٹن کی جنگیں، تل ابیب کے مفادات؟

شہزاد راجپوت
عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک ملک کی پالیسی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی واقعی اس کے اپنے قومی مفادات کے لیے ہوتی ہے یا اس کے پیچھے اسرائیل کی سلامتی کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی غیر معمولی طور پر واضح اور جارحانہ دکھائی دی۔ سفارتی بیانات ہوں یا فوجی اقدامات، بیشتر مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ واشنگٹن کے فیصلوں میں تل ابیب کے تحفظات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ناقدین یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ امریکی قیادت نے اپنے اتحادی نیتن یاہو کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی معاشرے کے اندر بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری ہے۔اس حوالے سے بہت سے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں امریکی عوام کے لیے مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔ اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات، ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت ایسے عوامل ہیں جو امریکہ کے داخلی حالات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب ایک عالمی طاقت مسلسل جنگی ماحول میں الجھی رہے تو اس کا بوجھ بالآخر عام شہری ہی اٹھاتا ہے۔دوسری طرف امریکی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حامی حلقے اس تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات صرف جذباتی یا شخصی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔ واشنگٹن کے نزدیک اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں اس کا ایک مضبوط اتحادی ہے اور اس کی سلامتی دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے چنانچہ امریکی پالیسی ساز یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے فیصلے کسی ایک شخصیت یا حکومت کی خاطر نہیں بلکہ طویل المدتی جغرافیائی و سیاسی مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں مفادات کی لکیر ہمیشہ واضح نہیں ہوتی۔ طاقتور ریاستیں اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور اپنے مفادات کے درمیان ایک باریک توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جب جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کی تپش صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ معیشتوں، معاشروں اور آنے والی نسلوں تک پھیل جاتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی بھی اسی پیچیدہ حقیقت کی عکاس ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے فیصلوں میں دانشمندی اور اعتدال کا مظاہرہ نہ کریں تو ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ ساز جنگ کے بجائے سفارت کاری اور امن کو ترجیح دیںکیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں وقتی مفادات تو حاصل کر لیتی ہیں مگر ان کے زخم نسلوں تک مندمل نہیں ہوتے۔