جنگیں بدل گئیں--کاغذی بم قسط دوم

یاور مہدی

پہلی قسط میں میں نے عرض کیا تھا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے جنگوں کا رخ بدل دیا ہے۔ اب میدانِ جنگ صرف بارود اور میزائلوں تک محدود نہیں رہا۔ مگر آج جس ہتھیار کا ذکر ہے وہ نہ دھماکہ کرتا ہے اور نہ دھواں اٹھاتا ہے، اس کے باوجود اس کی گونج ایوانوں کو ہلا دیتی ہے۔ یہ ہے جدید دور کا ‘‘کاغذی بم’’ چند سطروں میں لکھا جانے والا فیصلہ جس کے اثرات براعظموں تک محسوس ہوتے ہیں۔
مارچ 2025 میں امریکہ نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے دہائیوں پرانی دوستی میں دراڑ ڈال دی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت کینیڈا سے آنے والی اشیاء￿  پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیے جبکہ توانائی کی مصنوعات پر 10 فیصد محصولات لگا دیے گئے۔ امریکی تجارتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی خدشات اور بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ بظاہر یہ معاشی فیصلہ تھا، مگر اس کے اثرات جلد ہی سیاسی اور تجارتی کشمکش میں بدل گئے۔
امریکی قیادت کو شاید اندازہ تھا کہ کینیڈا دباؤ برداشت کر لے گا، مگر حالات نے مختلف رخ اختیار کیا۔ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ کینیڈا اس فیصلے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا۔ چند گھنٹوں کے اندر کینیڈا نے تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد جوابی محصولات عائد کر دیے  رائٹرز، 2025)۔ یوں ایک خاموش معاشی جنگ شروع ہو گئی۔
یہ محض ٹیرف کا تنازع نہیں تھا بلکہ جدید دور کی اس حقیقت کا اظہار تھا کہ معیشت، قانون اور ضابطے اب نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہی وہ کاغذی بم ہیں جو بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی گونج عالمی معیشت تک سنائی دیتی ہے۔
اسی کشمکش نے ہوا بازی کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جنوری 2026 میں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘‘ٹروتھ سوشل’’ پر الزام لگایا کہ کینیڈا گلف اسٹریم کے جدید طیاروں (G500، G600، G700 اور G800) کی سرٹیفیکیشن میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ جواباً انہوں نے دھمکی دی کہ کینیڈا میں تیار ہونے والے بمبارڈیئر طیاروں کو امریکہ میں ڈی سرٹیفائی کیا جا سکتا ہے اور ان پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں (ٹروتھ سوشل بیان اور امریکی تجارتی مباحث، جنوری 2026)۔ یہ صرف بیان نہیں تھا بلکہ ایک نئی ریگولیٹری جنگ کا اعلان تھا۔
ایوی ایشن ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بمبارڈیئر کے تقریباً 150 گلوبل ایکسپریس طیارے امریکہ میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 5,400 سے زائد کینیڈا میں تیار ہونے والے طیارے امریکی رجسٹری میں شامل ہیں (سیریم ایوی ایشن ڈیٹا اور صنعت کی رپورٹس)۔ اس صنعت سے امریکہ میں ہزاروں ملازمتیں وابستہ ہیں۔ یوں یہ تنازع صرف دو حکومتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ صنعت اور عالمی کاروبار تک پھیل گیا۔
اس کشیدگی کا ایک غیر متوقع اثر یہ بھی سامنے آیا کہ کینیڈین عوام اور ایئر لائنز نے خود امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ ایئر کینیڈا، ویسٹ جیٹ اور ایئر ٹرانساٹ جیسی ایئر لائنز نے امریکہ کے لیے اپنی پروازوں میں نمایاں کمی کی۔ بعض سرویز کے مطابق کینیڈین مسافروں میں امریکہ جانے کی خواہش میں تقریباً 20 سے 22 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی (ماخذ: شمالی امریکی ٹریول سروے رپورٹس، 2026)۔
امریکہ سے یورپ اور خلیجی ممالک جانے والی کئی پروازیں جو قطب شمالی کے قریب سے گزر کر کینیڈا کی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، اب مسافروں کی کمی اور بڑھتے اخراجات کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ نتیجتاً ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ کارگو کمپنیوں کے لیے ترسیل کے اوقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی سپلائی چین پہلے ہی کئی بحرانوں کا سامنا کر چکی ہے اور یہ تنازع ایک اور دباؤ پیدا کر رہا ہے۔
دوسری طرف کینیڈا نے اپنے فضائی اور تجارتی روابط کو متنوع بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ بعض ایوی ایشن رپورٹس کے مطابق ایئر کینیڈا نے یورپ اور کیریبین کے لیے پروازوں میں اضافہ کیا ہے جس سے امریکی ایئر لائنز کے مارکیٹ شیئر پر اثر پڑ رہا ہے۔اس صورتحال کے اثرات صرف شمالی امریکہ تک محدود نہیں بلکہ یورپی اور خلیجی ایئرپورٹس کے نظام الاوقات پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی سازوں کو شاید اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ کینیڈا کا آسمان صرف ایک فضائی راستہ نہیں تھا بلکہ عالمی تجارت کا ایک اہم پل تھا۔ اسی پل کے ذریعے امریکی معیشت دنیا تک پہنچتی تھی۔ اگر یہ پل کمزور پڑتا ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان موجود CUSMA (Canada–United States–Mexico Agreement) ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جس کا باقاعدہ جائزہ جولائی 2026 میں ہونا ہے۔ اس مرحلے پر یہ طے ہونا ہے کہ معاہدہ اسی شکل میں جاری رہے گا یا اسے نئے مذاکرات کے لیے کھولا جائے گا۔ اگر اس موقع پر کوئی بڑا اختلاف پیدا ہوا تو اس کے اثرات شمالی امریکہ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ جنگوں کو یاد رکھا ہے، وہ جنگیں جن میں میزائل برسے، شہر جلے اور بچے بے گھر ہوئے۔ مگر آنے والی نسلیں شاید ایک مختلف جنگ کو یاد رکھیں گی۔ وہ جنگ جس میں نہ کوئی میزائل گرے، نہ میدانوں میں فوجیں ٹکرائیں، مگر اس کے بعد دنیا ویسی نہ رہی۔
ہاں، یہ جنگ میدانوں میں نہیں بلکہ فیصلوں میں لڑی جا رہی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا کو پہلی بار احساس ہوا کہ طاقت کا توازن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، قانون اور فیصلوں سے بھی بدل سکتا ہے۔
اور یہ تو اس بدلتی ہوئی جنگ کی صرف ایک جھلک ہے۔ 
اب دیکھتے ہیں کہ کون جیتتا ہے…*تیری زلف کے اسیر ہونے تک۔