عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
بین الاقوامی قانون کبھی دنیاکی امیدتھامگرآباددنیامیں جنگل کے قانون کی واپسی کاخطرہ بڑھتادکھائی دیتاہے۔جب بڑے ملک قانون کو ’’پسندوناپسند‘‘کے ترازومیں تولنے لگیں، تو عدالت تاریخ کے حضورخاموش کھڑی رہ جاتی ہے اورعالمی وبین الاقوامی قوانین ایک ٹوٹے ہوئے آئینے کی مانند کرچی کرچی ہوکرانسانیت کوبری طرح مجروح کردیتی ہیں۔
مادوروآپریشن نے یہ سوال سنگین کردیاہے کہ بین الاقوامی قانون محض کتابی جملہ ہے یاواقعی قوتِ نافذہ رکھتاہے۔جب طاقتوراپنی مرضی سے قانون کی تعبیربدلنے لگے توکمزور قوموں کیلئے انصاف خواب بن جاتاہے۔مگردوسری طرف یورپی طاقتیں جانتی ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی کھلی خلاف ورزی ہے،مگرخاموش ہیں۔شایدمعاشی مفادطاقتور ہے ،شایدخوف غالب مگرتاریخ ان کی خاموشی بھی ریکارڈکررہی ہے۔
مادوروکی چینی سفارت کاروں سے ملاقات کے بعدچین کی شدید مذمت اس امرکی علامت ہے کہ دنیاایک نئے بلاک کی تشکیل کے قریب ہے۔سردجنگ کی راکھ میں چنگاریاں پھر دہک رہی ہیں۔ٹرمپ کے اس اقدام نے روس اورچین کیلئے ایک کھلاپیغام اورایک نئی مثال قائم کردی ہے کہ اگرامریکاکرسکتاہے توچین تائیوان میں اورروس یوکرین میں کیوں نہیں؟تاہم چین نے مذمت توکی ہے مگر ساتھ ہی دنیاسوچ رہی ہے کہ اگریہ راستہ چل نکلاتوتائیوان،یوکرین اوردیگر خطے بھی اسی منطق کاشکارہوسکتے ہیں اوران کو روکنے کیلئے بھلاکیاجوازباقی رہ گیاہے۔ایک لکیرپارہوچکی ہے؛اب ہرقوت اپنی تشریح کاحق مانگے گی۔یہی خوف سینیٹرمارک وارنر نے بیان کیاکہ اب ہرملک اپنی تشریح لے کرکھڑاہو
جائے گااوردنیانظم سے بے نظم کی طرف ڈھل جائے گی۔
یہ واقعات محض خبریں نہیںیہ آنے والے برس کی تمہیدہیں۔تاریخ کی پیشانی پرلکھاجارہاہے کہ طاقت کامرکزمتحرک ہے،اوردنیا لرزاں۔ریڈاراورکمانڈرخاموش کردیے گئے،  فلائٹ کمانڈر پلٹ گئے، دفاعی نظام معطل، اینٹی ایئرکرافٹ گنز خاموش رہیںیہ صرف ٹیکنالوجی نہیں،اندرونی غداری کاشاخسانہ تھا۔گویااندرسے چراغ گل کیے گئے تھے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ایبٹ آبادہویاتہرا ن،جہاں اندرسے دروازہ کھلے،باہروالا زیادہ دیردستک نہیں دیتا۔ طاقت ہمیشہ باہرسے نہیں گرتی،اکثراندرسے ڈھے جاتی ہے۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ کامیابی صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اندرونی مضبوطی سے بنتی ہے۔جہاں کمانڈٹوٹے،وہاں ریاستیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
بیرونی دشمن کی سازشیں ہمیشہ رہتی ہیں،مگرسب سے بڑاسوراخ اندرسے ہوتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں،روم،عثمانی خلافت ،سویت یونین زیادہ تراندرونی کمزوریوں سے گریں،نہ کہ باہرکے حملوں سے۔امریکاکی جدید طاقت بھی وہاں ناکام دکھائی دی، صومالیہ میں عوامی مزاحمت کے آگیافغانستان میں مقامی اتحادیوں کے دھوکے کے باعث، ایران میں داخلی نظم وضبط اورجوابی تدبیرکے باعث۔ نتیجہ یہ کہ اداروں کی مضبوطی،قوم کے اندراتحاد،فوجی قوت سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی کی صفائی یہی وہ بنیادی سبق ہے کہ چین آف کمانڈ کی حفاظت سب سے بڑا دفاع ہے جوپاکستان کیلئے نہایت فیصلہ کن ہے۔
چین آف کمانڈکیاہے؟فیصلہ کہاں بنتاہے؟کس کوحکم پہنچتاہے؟کون اسے نافذکرتاہے؟قیادت کوگمراہ کرنا،غلط معلومات پہنچانا، فیصلوں میں تاخیرپیداکرنا،کمانڈ میں دراڑڈالنا،نہ صرف ان سب کابروقت تدارک کرکے ایسے عناصرکی سختی سے سرکوبی کرنااور انہیں آہنی ہاتھوں سے انجام تک پہنچاناریاست کی سب سے اولین ذمہ داری ہے کیونکہ ریاست کی نازک ترین جگہ یہی ہے۔جدیدجنگ میں اصل ہدف میزائل سسٹم نہیں،ٹینک نہیں،فوجی اڈے نہیں بلکہ فیصلہ سازی کادماغ،اعصابی نظامِ ریاست،کمانڈوکنٹرول سینٹرہیں، اس لئے پاکستان کیلئے خاص سبق یہی ہے کہ خفیہ اداروں کی ہم آہنگی،سول واطلاعاتی جنگ میڈیا+سوشل میڈیاپردشمن کی طرف سے افراتفری پھیلانے والے موادسے بچاؤ،ملٹری قیادت میں اعتماد،اندرونی غداروں،لیکرزاورسہولت کاروں کی روک تھام کامضبوط نظام قائم موجودہو۔اگرچین آف کمانڈ محفوظ ہودشمن جیت نہیں سکتاچاہے اس کے پاس کتنی بھی ٹیکنالوجی ہو۔
یادرکھیں کہ تیسری دنیاکے ممالک پرواضح ہوچکاہے کہ اب جنگیں صرف سرحدوں پرنہیں ہوتیں بلکہ کرنسی پرحملہ،سوشل میڈیاکے ذریعے انتشار،سیاسی تقسیم پروکسی وارپرجاری ہیں ۔ معاہدے کمزورہیں،اقوامِ متحدہ غیرموثرہے،بڑی طاقتیں اپنامفاددیکھتی ہیں جس کی بنا پر تیسری دنیا کے ممالک لازماً ایٹمی ڈیٹرنس، ایٹمی ٹیکنالوجی،میزائل نظام،دفاعی اتحادکی طرف جائیں گے۔ اسی پس منظرمیں چین،روس اورپاکستان تیسری دنیا کی اس دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نئے عالمی اتحادکے ممکنہ مراکز بن رہے ہیں۔پاکستان پہلے ہی ایٹمی طاقت،جنگی تجربہ اوراسٹریٹجک محل وقوع رکھتاہے،اسی لئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد خلیجی ممالک پاکستان سے سکیورٹی شراکت چاہتے ہیں،اس کی بنیادی وجوہ خطے میں اسرائیل وایران تنازع،امریکاپراعتبارکی کمزوری، خودمختاردفاع کی ضرورت لازم سمجھی جارہی ہے۔پاکستان کیلئے بنیادی سبق یہ ہے کہ صرف ہتھیارکافی نہیں، اصل ضرورت محفوظ ،متحد،بیدارقیادت،طاقتورچین آف کمانڈ،قومی وحدت اوراندرونی استحکام انتہائی ضروری ہے۔اگراندرسے غداری نہ ہوتو نیاکی بڑی سے بڑی طاقت جدید ترین ہتھیاروں کے باوجودکسی قوم کوشکست نہیں دے سکتی۔
ریاستیں توپوں سے نہیں بکھرتیں،نظم کی ٹوٹتی ہوئی زنجیروں سے بکھرتی ہیں۔جب چین آف کمانڈٹوٹ جائے توعسکری قوت ریت کا گھربن جاتی ہے۔ریاستیں ہتھیاروں سے نہیں ، نظم سے قائم رہتی ہیں۔جب کمان ٹوٹتی ہے توفوجیں طاقتورہوتے ہوئے بھی ہارجاتی ہیں اورجب نظم سلامت ہوتو کمزوربھی سرخروہوجاتے ہیں۔پاکستان،پاکستان،ترکی، ایران سب مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔سلامتی ووقارکا رازاس نظم میں پوشیدہ ہے۔یہی سبق وینزویلاسکھاگیااوریہی سبق پاکستان سمیت پوری دنیاکیلئے پیغام ہے کہ ملکوں کی سلامتی توپ وتفنگ سے نہیں،وفاداری اورنظمِ کمان سے عبارت ہوتی ہے۔ایک سادہ جملے میں مرکزی سبق یہی ہے کہ ریاست کودشمن باہرسے کم،اندرسے زیادہ توڑتاہے، اس لیے پاکستان کیلئے سب سے اہم کام مضبوط اورمحفوظ چین آف کمانڈہے۔
دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے ،طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورمعدنی دولت کی کشش نے تاریخ کودوبارہ متحرک کردیاہے۔ سیاست اب محض بیانات کاکھیل نہیں رہی؛یہ اعصاب،معیشت،ٹیکنالوجی اورداخلی اتحادکامعرکہ ہے۔تاریخ ہمیشہ خاموش نہیں رہتی ،وہ فیصلے محفوظ رکھتی ہے،اوروقت آنے پرسنابھی دیتی ہے تاہم تاریخ کے منصف جلدی فیصلہ نہیں کرتے۔وہ منتظررہتے ہیںقلم ٹک ٹک کرتارہتاہے،اوروقت صفحہ پلٹتارہتاہے۔آج جوطاقتوردکھائی دیتاہے،کل خودکٹہرے میں کھڑاہوسکتاہے۔اصل طاقت وہی ہے جو عدل کے ترازومیں قائم رہ سکے۔
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بیرونی جارحیت کی کامیابی ہمیشہ بارود،بمباری اورٹیکنالوجی کی مرہونِ منت نہیں رہی؛اس کے پیچھے اکثروہی خنجرکارفرمارہاہے جواندرسے لگتاہے۔ وینزویلاکے حالیہ واقعات ہوں یاماضی کے ابواب ،جہاں اندرونی صفوں میں رخنہ نہ پڑا،وہاں امریکاجیسی بڑی عسکری قوت بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجودکامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی بلکہ ذلت آمیز انجام کی تاریخ سے امریکی ندامت بھری پڑی ہے۔
صومالیہ میں پھنسے ہوئے امریکی دستے ہوں،افغانستان کی شکستہ وادیوں سے ہونے والاانخلا ہو یا تہران میں ناکام کارروائی ،ہر جگہ ایک ہی سبق رقم ہواکہ بیرونی طاقت اس وقت تک ناقابلِ تسخیرنہیں ہوتی جب تک اندرونی دیوارسلامت رہتی ہے۔جس ریاست میں نظمِ کمان برقراررہے،قومی عزم بیدارہواوراداروں کارشتہ عوام کے اعتماد سے جڑارہے، وہاں ٹیکنالوجی کے پہاڑبھی ریت ثابت ہوتے ہیں۔اسی پس منظرمیں ایک اورلمح فکریہ سامنے آتاہے۔جب چھوٹے ممالک یہ دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کمزوراور طاقتور کی مرضی کے تابع ہوچکاہے،تو ان کے دلوں میں یہ احساس جنم لیتاہے کہ اپنی بقاکیلئے خودکفالت اوردفاعی خودانحصاری ناگزیرہے۔یہ بھی بعیدنہیں کہ تیسری دنیاکے کئی ممالک اپنی سلامتی کے تصورکوایٹمی واسٹریٹجک صلاحیت سے جوڑنے لگیں،اوراس راہ میں وہ چین، روس یاپاکستان جیسے ممالک کی طرف دیکھیں جوپہلے ہی دفاعی میدان میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون،اوردیگرعرب ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی،اسی بدلتے ہوئے عالمی احساس کاعکاس ہے۔
لیکن تاریخ کایہ باب ہمیں ایک اورسبق بھی دیتاہے اکہ ا صل قوت ہتھیارنہیں،ایمان دارقیادت،قومی وحدت اوراداروں کے درمیان مضبوط اعتمادہے۔جوقومیں اندرسے ٹوٹ جائیں،انہیں باہرسے صرف دھکادیناپڑتاہے؛اورجواندر سے مضبوط ہوں،انہیں بڑے سے بڑاطوفان بھی جھکانہیں سکتا۔وقت اپنے فیصلے محفوظ رکھتاہے مگر تاریخ آج بھی یہی کہہ رہی ہے کہ سلامتی کی بنیاداسلحے سے زیادہ اتحادمیں ہے،اوردفاع کاپہلا مورچہ ریاست کے اندرکانظم وضبط ہے۔