عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
عصرِحاضرکی بین الاقوامی سیاست ایک بارپھراس موڑپرآن کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت کاسکہ چلتاہے اوراصول کتابوں میں رہ جاتے ہیں۔سامراجی رویوں کی وہ پرانی دستاویزیں جنہیں تاریخ نے مردہ سمجھ لیاتھا،نئے عنوانوں اورنئی اصطلاحات کے ساتھ پھرزندہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔وینزویلامیں امریکی اقدام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کے افق پرابھرتاہواوہ بادل ہے جس کے پیچھے بہت سے سوال پوشیدہ ہیں۔طاقت کابے لگام استعمال،منرونظریے کی نئی قرت،فوجی مداخلت کی تازہ مثالیں،عالمی اداروں کی خاموشی اورچھوٹے ممالک کی بے بسی یہ سب مل کر ہمارے عہد کی وہ تصویربناتے ہیں جس میں امن ایک خواب اورانصاف ایک نایاب شئے دکھائی دیتاہے۔تاریخ نے بارہاثابت کیاہے کہ جب بڑی طاقتیں خودکوقانون سے ماوراسمجھنے لگتی ہیں توکمزوراقوام کی تقدیرمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے۔
یہ مضمون اسی پس منظرمیں وینزویلاکے واقعات کوپرکھنے،امریکی طاقت کے طرزِاستعمال کوسمجھنے،عالمی ردِعمل کوجانچنے اورخاص طورپراس سوال کاجائزہ لینے کی کوشش ہے کہ اس تمام ہنگامے کے بعددنیاکے محصورومحکوم خطوں میں کیاردِعمل جنم لے گا،اورعالمی نظام آئندہ کس سمت بڑھتاہوانظرآتاہے۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے وینزویلامیں فوجی کارروائی کے بعدجس لب ولہجے میں گفتگوکی،اس نے دوصدی پرانے منروڈاکٹرائن کونئے رنگ میں زندہ کردیا۔ٹرمپ کی جانب سے وینزویلامیں براہ راست فوجی کارروائی بظاہرایک ملک کے خلاف اقدام ہے،مگردر حقیقت یہ پوری دنیاکیلئے ایک اعلان ہے۔یہ اقدام چین،روس اوردنیاکی دیگرمقتدر مگر آمرانہ حکومتوں کیلئے ایک خاموش پیغامِ بھی ہے کہ طاقت کی لغت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب بھی سامراجی قوتوں نے خودکوعالمی منصف قرار دیا ، دنیامیں نیاعدم توازن جنم لیتارہا۔اب سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ نے محض وینزویلاپرحملہ کیاہے،یادنیاکے سیاسی نقشے پرنئے خطوط کھینچ دیے ہیں؟کیایہ کارروائی محض ایک ملک تک محدودواقعہ ہے یاچین وروس جیسی طاقتوں کیلئے بھی ایک نئے سیاسی نقشِ قدم کی نشاندہی؟ تاریخ کہتی ہے کہ نظریات جب طاقت کے سائے میں بولتے ہیں تومحض جملے نہیں رہتے،وہ سمتیں متعین کرتے ہیں۔
وینزویلاکے صدرنیکولس مادوروکی گرفتاری اورامریکی جیل میں قیددراصل اس نظریے کی مجسم صورت ہے کہ طاقت جب قانون بن جائے توانصاف پس پشت چلاجاتاہے۔ٹرمپ کااعلان کہ’’ہم وینزویلاکوچلائیں گے‘‘جیسے جملوں نے عالمی سفارت کاری میں ہلچل مچادی  بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دورِجسارت کااشارہ ہے۔ٹرمپ کایہ عندیہ کہ ضرورت پڑی توزمینی فوج بھی اتاریں گے،ایک نئی روش کی خبردیتاہے گویاطاقت کوزبان سے نہیں،عمل سے ثابت کرنے کازمانہ دوبارہ پلٹ آیاہے۔وزیرِخارجہ مارکو روبیوکے رابطے اورڈیلسی روڈریگیزکارضامندلہجہ اس امرکی علامت ہے کہ چھوٹے ممالک کے پاس انکارکاحوصلہ کم ہوتاجارہا ہے۔ٹرمپ کایہ کہناکہ’’وہ مہربان ہیں،مگرچارہ نہیں‘‘عالمی سیاست کافقرہ نہیں،پوری تاریخ کابین السطورخلاصہ ہے۔
کیاکسی ملک کودوردرازسے کنٹرول کیاجاسکتاہے؟یہ سوال محض تجزیہ نہیں،تاریخ کاامتحان ہے۔کیادوربیٹھے طاقتور ، مقامی معاشروں کے مزاج سمجھے بغیرمحض عسکری دباؤسے اپنے اہداف حاصل کرپائیں گے؟تاریخ نے اس کاجواب کئی بارنفی میں دیاہے۔طاقت سے حکومت توگرائی جاسکتی ہے،مگردلوں پرحکم نہیں چلتا۔وہ مقامی مزاحمت،وہ پوشیدہ نفسیات،وہ قومیت کاشعور  یہ سب ایسے عوامل ہیں جوکسی بھی’’ریموٹ حکومت‘‘کوعدم استحکام میں دھکیل دیتے ہیں۔امریکی سوچ کہتی ہے ہاں!مگرزمینی حقیقتیں بتاتی ہیں کہ قومیں کنٹرول سے نہیں،رضامندی سے چلتی ہیںاوررضامندی تاریخ کاسب سے نایاب جوہرہے۔امریکی حکام کویقین ہے کہ منصوبہ کامیاب رہے گا،مگرتاریخ کاحافظہ کچھ اور کہتاہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس پہلے ہی خبردارکرچکے تھے کہ اچانک معزولی،ریاست کے دھڑوں کوٹکراتی گلیوں میں بدل سکتی ہے۔ طاقت جب اداروں سے بڑی ہوجائے تواقتدار، سیاست نہیں رہتاغلبے کی رسہ کشی بن جاتاہے کرائسزگروپ اورنیویارک ٹائمزپہلے ہی وینزویلامیں ممکنہ افراتفری سے خبردارکرچکے تھے۔طاقت کاخلاکبھی خالی نہیں رہتا۔جہاں حکومت ٹوٹے وہاں اسلحہ بولتاہے اور گروہ زورآزماتے ہیں۔یہی خوف ہے کہ اگرریاست کے داستاں گوکمزورپڑجائیں،توقصہ گوئی کاحق بندوق سنبھال لیتی ہے۔
مادوروکی معزولی امریکی عسکری قوت کے عملی مظاہرہ کے طورپرپیش کی گئی۔حیرت کی بات یہ کہ ایک امریکی فوجی بھی نہ مرا،اورمقصدحاصل ہوامگرتاریخ سوال کرتی ہے کیایہی کامیابی ہے؟لیکن سوال یہ ہے کہ کیاصرف جانی نقصان نہ ہوناہی اخلاقی فتح ہے؟کیااقوام کی خودمختاری بھی کوئی معنی رکھتی ہے؟وینزویلاکے اندرخوشی کی لہریں کچھ حلقوں نے ضرور دکھائیں ،مگر سرحدوں سے باہراضطراب بڑھا۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں نتائج اپنی حقیقی شکل میں آنے کیلئیوقت کے طویل پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں؟
ٹرمپ کی نیوزکانفرنس میں لہجہ فاتحانہ تھا۔فتح کے ترانے بجتے رہے،مگرتاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ طاقت کے بل پرحکومتیں بدلیں مگرسماج نہ بدلا؛تاریخ کے اوراق میں درج عراق،افغانستان اوردیگرممالک کی ناکام داستانیں گواہ ہیں کہ عسکری فتح کے بعد سیاسی امن قائم کرنافقط اعلان سے ممکن نہیں ہوتا۔عراق سے افغانستان تک مثالیں دستک دیتی ہیں کہ عسکری جیت کے بعدسیاسی امن قائم کرنا میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔اصل جنگ عسکری کارروائی کے بعدشروع ہوتی ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں کے تجربات چیخ چیخ کرکہتے ہیں کہ بندوق راستہ بناتی ہے مگرمنزل نہیں دیتی۔قومیں بیرونی قوت کے فیصلے کو قبول نہیں کرتیں،وہ وقت کے ساتھ اپنافیصلہ صادر کرتی ہیںاوروقت کسی کاقیدی نہیں۔2003کاعراق آج بھی ناسورکی طرح لہورستا ہے۔افغانستان میں دودہائیوں کے بعدامریکی افواج کاذلت آمیزانخلادنیاکویاددلاتاہے کہ طاقت کے ایوانوں کی عمارت ریت پرکھڑی ہوتو ہواکی پہلی لہرہی کافی ہوتی ہے۔تاریخ خاموش نہیںوہ ماضی کے آئینے میں حال کودیکھتی ہے۔
1823میں منرونے جوجملہ کہاتھا،ٹرمپ نے اسے نیالہجہ عطاکیا۔ٹرمپ کایہ کہناکہ ہم نے منرونظریہ بہت پیچھے چھوڑدیامحض فقرہ نہیں،مغربی نصف کرے کے سیاسی نقشے پرایک تازہ لکیرہے۔ہم نے اسے پیچھے چھوڑدیاگویااب صرف عدم مداخلت نہیں،بلکہ تسلط کاکھلااعلان ہے۔مغربی دنیاکوہماراحلقہ قراردیناصرف نعرہ نہیں،عالمی سیاسیات کانیاضابطہ ہے۔پیغام واضح ہے امریکااپنی جغرافیائی برتری پرکوئی سوال برداشت نہیں کرے گا۔
کولمبیاکے صدرکودھمکی،میکسیکوکے بارے میں نشاندہی،ہیٹی کوانتباہ ،یہ الفاظ نہیں،پالیسی کے سائے ہیں۔طاقت جب گفتگوسے انکارکردے توسفارت گری کاچراغ مدھم پڑجاتاہے اوراندیشے گہرے ہوجاتے ہیں جس کابالآخرانجام قوموں کی تباہی کے سوااورکچھ نہیں ہوتا۔ہیٹی میں حکومت کی تبدیلی بندوق کے سائے میں ہوئی۔گولیاں کم چلیں،مگر آنسوبہت بہے۔30برس گزرے مگرخوشحالی ابھی مقروض ہے۔یہ مثال وینزویلاکیلئے بھی ایک خاموش تنبیہ ہے۔
کیوباہمیشہ سے امریکی نفسیات میں ایک کانٹارہاہے۔سوشلسٹ روایت اورکیریبیئن کی جغرافیائی اہمیت نے اسے مستقل’’ٹارگٹ‘‘بنارکھا ہے۔روبیوکی خاندانی نسبت اس معاملے کومزیدحساس بنادیتی ہے۔ٹرمپ کے لہجے میں تنبیہ بھی تھی،دعویٰ بھی اورارادہ بھی۔ماضی کی مداخلتوں نے کئی خطوں کوتجربہ گاہ بنادیا،مگرنتائج آج بھی ٹھوکریں کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ہیٹی کی مثال ثابت کرتی ہے کہ حکومتیں بدلی جاسکتی ہیںمگرقومیں نہیں۔ٹرمپ نے’’جمہوریت‘‘کالفظ استعمال نہیں کیا،نہ ماریاکوریناماچاڈوپراعتمادکااظہارکیااور نہ گونزالیزپرگویافیصلہ عوام نہیں،طاقت نے کرناہے۔یہیں سے سوال اٹھتاہے کہ کیاجمہوریت محض نعرہ رہ گئی ہے؟وینزویلاکی قیادت جمہوریت کاسواطاقت کی تبدیلی یانظام کی بقا؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جن کے جواب طاقت کے پہاڑتلے کچلے گئے ہیں۔
کوئی بیرونی طاقت اندرونی دراڑوں کے بغیرکامیاب نہیں ہوتی۔مادوروکے خلاف اندرکے ہاتھوں نے ہی راستہ ہموارکیا۔مگریہی حقیقت فوج کے عزت دارجرنیلوں کیلئے شرمندگی کاسامان بھی ہے۔وہ مزاحمت نہ کرسکے اورتاریخ سوال چھوڑگئی۔ حکومت کے حامیوں کے مالی مفادات،مسلح ملیشیا،کولمبین گوریلا،بدعنوانی کے جال اورملیشیاکی طاقتیہ سب وہ آگ ہے جوکسی بھی وقت شعلہ بن سکتی ہے۔اقتدارکی رسہ کشی جب اسلحہ تھام لے توریاست کامستقبل سوالیہ نشان بن جاتاہے۔مادوروقیدمیں ہیں مگر شاویزکانظام اپنی جڑوں سمیت موجودہے۔فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے جال، ملیشیائیں اور مسلح گروہ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ کھیل ختم نہیں ہوا؛ اب دراصل کھیل شروع ہوا ہے۔
وینزویلاکے تیل ومعدنی ذخائرہوں یاگرین لینڈکی برف تلے چھپی دولت ،طاقتیں ہمیشہ زمین سے نہیں،زیرِزمین دولت سے بندھی ہوتی ہیں۔عالمی سیاست کے اشارے بتا رہے ہیں کہ شمال وجنوب دونوں،ایک ہی نگاہ کے دائرے میں ہیں۔اب خوف صرف جنوب تک محدود نہیں۔ قطب شمالی کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اوراس کے نیچے سونے کی نیند سوتے ذخائرجاگنے کوہیں۔گرین لینڈپرامریکی نگاہیں اسی خاموش لالچ کی ترجمان ہیں۔(جاری ہے)