ماضی کی اور موجودہ جنگیں

یاور مہدی پہلی قسط
پہلے جنگیں صرف میدانوں میں لڑی جاتی تھیں۔گھوڑے، تلواریں، ڈھال، نیزے۔ پھر جدت نے قدم رکھا۔ توپیں گرجنے لگیں، بارود کی بو فضا میں پھیلنے لگی اور سپاہی آمنے سامنے کھڑے ہو کر جان ہارنے لگے۔وہ دور بڑا سادہ تھا۔ دشمن سامنے ہوتا تھا، آنکھوں سے دیکھا جاتا تھا، اور ٹینکوں کے نیچے جا کر حکمت عملی سے اس کا مقابلہ کیا کرتا تھا۔ جنگ کے اپنے اصول تھے، اپنی طاقت اور گھمنڈ کے نت نئے مظاہر تھے۔
پھر وقت بدلا تو ہتھیار بھی بدل گئے۔میزائل آئے، راکٹ لانچر آئے، ڈرون آئے، جدید ہائی سپیڈ فائٹر جیٹ آئے۔ جنگیں سرحدوں سے نکل کر آسمانوں تک پھیل گئیں۔ اب دشمن دور ہوتا گیا اور تباہی قریب تر آتی گئی۔ اب سپاہی کو دشمن کا چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہ رہی۔ بس ایک بٹن دبانا تھا اور فاصلے مٹ جاتے تھے۔
آج دنیا ایک اور عجیب مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔اب جنگیں صرف بارود سے نہیں لڑی جاتیں۔ ٹیکنالوجی خود ایک ہتھیار بن چکی ہے۔ جسکی تازہ ترین مٹال ! حال ہی میں پاکستانی فوج نے جدید ٹیکنالوجی سے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ پھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف باہمی حکمت عملی اپنائی مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس ہتھیار، خودکار ڈرون، ڈیجیٹل نگرانی۔
یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔مگر ایران نے نہ صرف عالمی طاقت ور درندوں کو منہ توڑ جواب دیا، بلکہ دنیا بھر کے نام نہاد مسلمان ممالک کا چہرہ بھی بے نقاب کر دیا۔ کیا عظیم ملک ہے! کتنے بلند عزائم رکھنے والی پرعزم قوم ہے کہ باوجود ناقابل تلافی نقصانات کے، غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے ہر طرح سے ڈٹی ہوئی ہے۔یقیناً پروردگار ہی ہے جو مظلوموں کی مدد کے لیے کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
گزشتہ ایک سال سے اسی دنیا میں ایک اور جنگ بھی جاری ہے۔یہ جنگ بظاہر خاموش ہے، مگر اس کے دور رس اثرات کسی تباہی سے کم نہیں۔ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ اسی نئی طرزِ جنگ کی ایک پریشان کن مثال بن چکا ہے۔ دونوں ممالک جو کبھی اتحادی تھے، آج ایک دوسرے پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ جو کبھی ایک دوسرے کے معاشی معاون تھے، آج ایک دوسرے کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ شاید دنیا کی انوکھی جنگوں میں سے ایک ہے۔اس جنگ کا آغاز نہ کسی توپ سے ہوا، نہ کسی میزائل سے اور نہ ہی کسی جدید AI ٹیکنالوجی سے۔ جی ہاں! اس جنگ کی چنگاری ایک ایسے ہتھیار سے بھڑکی جو بظاہر بہت معمولی لگتا ہے ! ایک کاغذ کا ٹکڑا۔مگر اس کاغذ پر لکھی ہوئی چند سطریں کسی عالمی طاقت پر گرنے والے معاشی بم سے کم ثابت نہیں ہوئیں۔انہی سطروں نے دو قریبی اتحادی ممالک کو تجارتی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایسی جنگ جس کے اثرات اب چند ممالک سے نکل کر پوری عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، نوکریاں جا رہی ہیں، اور عام آدمی اس جنگ کی قیمت ادا کر رہا ہے۔
مگر اصل سوال وہی ہے جو آپ کے ذہن میں بھی ابھر رہا ہوگا۔۔۔۔۔آخر اس "کاغذی بم" میں ایسا کیا لکھا تھا جس نے دنیا کی دو قریبی معیشتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا؟ کیا وہ صرف چند الفاظ تھے، یا ان الفاظ کے پیچھے کوئی بڑی سازش تھی؟ کیا یہ محض تجارتی تنازعہ ہے، یا 
اس سے بھی بڑا کچھ؟اگلی قسط میں۔۔۔۔ اسی کاغذ کے ان الفاظ کو پڑھیے جنہوں نے دوستوں کو دشمن بنا دیا۔
یہ تحریر جنگ نہیں، بلکہ امن کی سفیر ہے۔