پاک-بھارت کرکٹ تعلقات ماضی کی سیریز ، موجودہ سفارت کاری اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ

فضیلہ خان
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بات کی جائے تو ایک وقت میں دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے اور مقبول کرکٹ تعلقات سمجھے جاتے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کئی بار دو طرفہ سیریز کھیلی جا چکی ہے جہیں آج تک یاد کیا جاتاہے، کبھی انڈین ٹیم پاکستان سیریز کھیلنے کے لیے آتی تو کبھی پاکستان ٹیم دو طرفہ سیریز کھیلنے کے لیے بھارت جا کے اپنی سیریز کھیلتی، اْس دور میں کرکٹ کو کرکٹ کو دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا تھا-
تاہم 2008 کے بعد سیاسی کشیدگی نے پاک اور بھارت کے کرکٹ تعلقات کو شدید متاثر کیا، اور اب حالات یہاں تک پہنچ چکے کہ انڈین ٹیم کے کھلاڑی پاکستانی پلیئرز سے میچ ڈے پہ ہاتھ ملانے سے گریز کرتے ہے۔ جبکہ ماضی کی پاک-بھارت آخری سیریز پہ نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے دو طرفہ سیریز کھلینے کے لیے 2012 اور 2013 میں بھارت کا سفر کیا تھا جس میں تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز شامل تھی اور پاکستان نے بھارت کو انکے گھر میں جاکے ہرایا تھا۔ سیریز کا پہلا میچ 30  دسمبر 2012 میں چنائی میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے 6 وکٹوں سے ہرایا تھا، دوسرا میچ تین جنوری 2013 میں ایڈن گارڈنز میں کھیلا گیا اور پاکستان ٹیم  85 رنز سے جیتی تھی، سیریز کا تیسرا اور آخری میں دہلی میں کھیلا گیا جسے انڈین ٹیم نے دس رنز سے جیتا لیکن پاکستان ٹیم سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئی اْس سیریز کے بعد پاک-بھارت کے درمیان کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی تعلقات میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اور یہ سیاسی کشیدگی انڈین حکومت کی طرف سے کھیل میں لائی گی ہے، اب تو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں  صرف آئی سی سی یا ایشیاکپ جسے ٹورنامنٹ میں ہی آمنے سامنے آتی ہے، انڈین حکومت اور انڈین بورڈ نے سیاست کو کھیل میں اس قدر لے آئی ہے کہ اب انڈین ٹیم کے کھلاڑی پاکستانی پلئیرز سے میچ والے دن ہاتھ ملانا پسند تک نہیں کرتے اور یہ رواج انڈین کھلاڑیوں نے 2025 میں ہونے والے ایشیاکپ میں اپنایا جب دونوں ٹیموں کے کپتان ٹاس کے لیے آمنے سامنے آئیں اور انڈین ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے میچ ریفری کا کہا کہ میں پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ نہیں ملاؤ گا بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی انڈین ٹیم نے ایشیا کپ کا فائنل اپنے نام کیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کیا اور بنا ٹرافی لیے وطن واپس چلے گئے۔جبکہ 2025 کی چیئمپن ٹرافی میں پاکستان میں آنے سے انکار کیا اور اپنے میچز دوسرے وینیو یعنی کے دبئی میں کھلیے تھے۔
اس وقت اگر موجودہ حالات کی بات کی جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح کر دیا ہیھکہ کرکٹ معاملات میں یکطرفہ فیصلے منظور نہیں کیے جائیں گے، جبکہ ورلڈکپ 2026 میں بنگلہ دیش کے ساتھ  ہونے والی ناانصاف میں پاکستان نے بنگلہ دیش بورڈ کا ساتھ دیتے ہوئے انڈیا کے ساتھ ہونے والے میچ کا بائیکاٹ بھی کیا تھا  ،  جس نے بعد آئی سی سی  عہدیدان پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے سے ناخوش نظر آئیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو منانے میں لگ گئے ، پاکستان حکومت اور کرکٹ بورڈ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے اپنے عہدیدارن  کو پاکستان بھیج کر اس مسلئے کو حل کروانے میں لگ گے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنا بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا  لیکن یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے صدر کی وجہ سے پاکستان نے واپس لیا  ، اور پاکستان اپنا میچْ انڈیا کے ساتھ شیڈول کے حساب سے کھیلے گا۔ 
 
پاک-بھارت ٹی  ٹوئنٹی ورلڈ کپ  ٹاکرا۔ 
یوں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آٹھ بار آمنیْسامنے آچکے ، ان آٹھ میچز میں سات بھارت جبکہ پاکستان  نے ایک میچ میں کامیابی حاصل کی ، اگر  2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی بات کی جائے تو  23 اکتوبر  2022  میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ آسٹریلیا میں انڈیا نے پاکستان کو چار وکٹوں سے ہرایا تھا 
اور 2024 میں امریکہ میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی 9 جون نیویارک امریکہ میں ہونے والے میچ میں بھی انڈیا نے پاکستا ن کو چھے رنز سے ہرا کر میچ اپنے نام کیا تھا۔