پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا ہے، جس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر بلایا گیا ہے، جہاں وہ آئین کے آرٹیکل 56 کی شق 3 کے تحت خصوصی خطاب کر رہے ہیں۔اجلاس کا آغاز قومی ترانے، قرآن کی تلاوت، اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا، اور پارلیمنٹ کے اراکین شریک ہیں۔صدر آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع ملا۔ انہوں نے ملک کے مستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہوگا۔
صدر نے مزید کہا کہ ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی اور زرمبادلہ میں ریکارڈ اضافہ خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عوامی خدمت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نے پلے کارڈز کے ساتھ احتجاج کیا اور شور شرابہ بھی کیا، جس کے دوران نعرے بازی کی گئی۔صدر آصف زرداری اپنے خطاب میں اتحادی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کا بھی احاطہ کریں گے اور معاشی بحالی کے اقدامات پر روشنی ڈالیں گے۔