25کروڑ کی جائیداد کا وصیت نامہ کالعدم قرار

 لندن(نیٹ نیوز) برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک خاتون کی جانب سے اپنی مرتی ہوئی ماں کے ہاتھ سے دستخط کرانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد 7 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 25کروڑ روپے) کی جائیداد کا وصیت نامہ کالعدم قرار دے دیا۔ برطانوی اخبار "دی میٹرو" کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرنے والے ایک شخص کو اپنی ماں کی جائیداد اور نقدی میں برابر کا حصہ مل گیا۔یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 76 سالہ مارگریٹ بیورسٹاک نے مارچ 2021 میں ایک وصیت نامے پر دستخط کیے، جس میں ان کے بیٹے جان بیورسٹاک کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بیٹی لیزا کو اپنی تمام جائیداد سونپ دی گئی، جس میں ہرن ہل، ساؤتھ لندن میں موجود ان کا مکان بھی شامل تھا۔ مارگریٹ اس وقت شدید بیمار تھیں اور صرف آٹھ دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق 61 سالہ جان کو اپنی ماں کی جائیداد سے کچھ بھی نہیں ملا، جس کے بعد انہوں نے عدالت میں یہ دعویٰ دائر کیا کہ ان کی بہن لیزا نے ان کی ماں سے زبردستی دستخط کرائے اور یہ وصیت نامہ درست نہیں۔ عدالت میں پیش کی گئی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ لیزا اپنی ماں کے ہاتھ کو پکڑ کر ان سے دستخط کروا رہی تھیں، جبکہ مارگریٹ تقریباً بے حس و حرکت تھیں۔عدالت نے جان کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ وصیت نامہ قانونی طور پر درست طریقے سے مکمل نہیں ہوا اور اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ماں کی جائیداد کو دونوں بہن بھائیوں میں برابر تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ  لیزا کو اپنے بھائی جان کے 80 ہزار پاؤنڈ کے قانونی اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔