نئے لیبر کوڈز مزدوروں کے حقوق سلب کرنے، مالکان کو محنت کشوں کے استحصال کا کھلا لائسنس دینے کی کوشش ہے،یونینز
نئی دہلی (آئی این پی )بھارت میں مودی حکومت کی مزدور دشمن اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف ایک بار پھر ملک گیر سطح پر احتجاجی طوفان اٹھ کھڑا ہوگیا۔ بینکاری، انشورنس، ڈاک، کوئلہ کان کنی، ٹرانسپورٹ اور دیگر کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 25کروڑ سے زائد مزدور آج بدھ کو ملک گیر ہڑتال میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے، جسے مزدور تنظیموں نے بھارت بند کا نام دیا ہے۔یہ ہڑتال بھارت کی 10مرکزی ٹریڈ یونینز کے مشترکہ فورم کے تحت دی گئی کال پر ہو رہی ہے، جنہوں نے مودی کی مرکزی حکومت پر مزدور دشمن، کسان دشمن اور قوم دشمن پالیسیاں اپنانے کا الزام لگایا ہے۔آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سیکرٹری امرجیت کور نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ مہینوں سے جاری بھرپور تیاریوں کے بعد ملک بھر میں ہڑتال ہونے جا رہی ہے، جس میں کسان، دیہی مزدور اور غیر رسمی شعبے کے ورکرز بھی شریک ہوں گے۔ہند مزدور سبھا کے ہربھجن سنگھ سدھو نے تصدیق کی کہ ہڑتال سے بینکنگ، ڈاک، کوئلہ کانکنی، فیکٹریز اور ریاستی ٹرانسپورٹ جیسی کلیدی خدمات بری طرح متاثر ہوں گی۔یونینز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مودی حکومت کے نافذ کردہ چار نئے لیبر کوڈز دراصل مزدوروں کے حقوق سلب کرنے، اجتماعی سودے بازی ختم کرنے، ہڑتال کے حق پر قدغن لگانے اور مالکان کو محنت کشوں کے استحصال کا کھلا لائسنس دینے کی کوشش ہے۔