میو ہسپتال لاہور میں غیر معیاری انجکشن کے استعمال کے باعث افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس میں زیر علاج 2 مریض جاں بحق ہو گئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ انجکشن لگنے کے بعد پیش آیا جس کے نتیجے میں 18 مریض متاثر ہوئے۔ ان متاثرہ مریضوں میں سے 4 کی حالت تاحال تشویشناک ہے، جبکہ باقی مریضوں کو ابتدائی علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔تمام متاثرہ مریض ہسپتال کے گھڑی وارڈ میں زیر علاج تھے اور انجکشن لگنے کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، انجکشن کے مبینہ ری ایکشن کی وجہ سے یہ اموات ہوئیں۔ اس واقعہ کے بعد، ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر انجکشن کا استعمال روک دیا۔سیکرٹری صحت عظمت محمود نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ انجکشن کے مبینہ ری ایکشن کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ذمہ داروں کو سزا دلوانے کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
صحت کے امور کے وزیر خواجہ سلمان رفیق نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی افراد اس واقعہ کے ذمہ دار ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایسی غفلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ واقعہ ہسپتالوں میں صحت کی سہولتوں اور مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے اور اس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کو مزید محتاط رہنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔