لاہور: سندر میں مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے سے 5 سالہ بچی جاں بحق ہوگئی۔
پولیس کے مطابق بچی کی طبیعت خراب ہونے پر اہلِ خانہ اسے قریبی کلینک لے کر گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر اتائی ڈاکٹر کی جانب سے انجکشن لگائے جانے کے بعد اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ سندر کی رہائشی 5 سالہ مدیحہ کو طبیعت خراب ہونے پر کلینک منتقل کیا گیا تھا۔ وہاں مبینہ طور پر اتائی ڈاکٹر نے بچی کو انجکشن لگایا، جس کے فوراً بعد اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔بچی کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کا علاج شروع کیا، تاہم مدیحہ دورانِ علاج جانبر نہ ہوسکی اور دم توڑ گئی۔واقعے کے بعد بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ بچی کی موت کن طبی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مبینہ اتائی کلینک کا عملہ تالے لگا کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے اتائی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ کلینک کے عملے اور واقعے کے دیگر پہلوؤں سے متعلق تحقیقات بھی جاری ہیں۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔