مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، چین نے فریقین سے تحمل اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، چین نے فریقین سے تحمل اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں چین نے تمام فریقین سے تحمل اور بردباری اختیار کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ترجمان کے مطابق تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے بھی خطے میں بڑھتے دباؤ پر سخت موقف اپنایا گیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی بیرونی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے کیے گئے تو وہ اپنے دفاع میں حملوں کے منبع، استعمال ہونے والے اڈوں اور لاجسٹک مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اس کے مخالفین کے بیانات کے ساتھ ساتھ چین جیسے بڑے عالمی طاقت کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں کسی بھی غلط فہمی یا اقدام سے کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔چین نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائیں۔