فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار ایران کو قرار دے دیا، اسرائیل سے تحمل برتنے کا مطالبہ

فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا ذمہ دار ایران کو قرار دے دیا، اسرائیل سے تحمل برتنے کا مطالبہ

اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے تناظر میں فرانس نے ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔

 تاہم ساتھ ہی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید فوجی کارروائی سے گریز کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں حالات مزید بگڑنے سے بچ سکیں۔

میکرون کا سخت موقف: ایران ایک نازک موڑ پر ہے
فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ ایران نے بغیر کسی جواز کے یورینیم کی افزودگی جاری رکھی ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ایک "نازک موڑ" کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں خطے میں موجودہ عدم استحکام کی "بہت بھاری ذمہ داری" کی حامل ہیں۔"ایران بغیر کسی جواز کے یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے، اور وہ اس سطح تک پہنچ رہا ہے جو نیوکلیئر ڈیوائس بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔" — صدر ایمانوئل میکرون ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن مغربی طاقتیں، خاص طور پر فرانس، ایران کے پروگرام پر شدید تحفظات رکھتی ہیں۔

اسرائیل سے تحمل کی اپیل
صدر میکرون نے واضح کیا کہ ایران کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی ایک "بے قابو ایسکلیشن" کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے یورپی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ:"موجودہ صورت حال میں بے قابو بگاڑ کا خدشہ ہے۔ ہمیں اس راستے پر نہیں جانا چاہیے جس کا انجام خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔"
سفارت کاری کی بحالی مشکل
صدر میکرون نے اعتراف کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ دوبارہ سفارتی مذاکرات کا آغاز، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں، سخت مشکل ہو چکی ہیں۔

ایران کے حملے کی صورت میں اسرائیل کے دفاع کا عندیہ
فرانسیسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اسرائیل پر حملہ کیا تو فرانس اسرائیل کے دفاع میں سفارتی سطح پر بھرپور حمایت کرے گا، لیکن انہوں نے تہران کے خلاف کسی بھی براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

فرانس-اسرائیل تعلقات کی حالیہ کشیدگی اور غزہ
اگرچہ فرانس اور اسرائیل تاریخی طور پر قریبی اتحادی ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر فرانسیسی صدر کی سخت تنقید کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ میکرون نے بارہا غزہ میں انسانی بحران، خاص طور پر خوراک کی ناکہ بندی پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔تاہم آج، جب بات ایران کے ساتھ براہِ راست تنازعے کی ہے، فرانس نے واضح طور پر اسرائیل کے دفاع کا عندیہ دے کر پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔میکرون نے کہا کہ:"فرانس کی اسرائیل کے لیے حمایت غیر مشروط نہیں ہے۔ ہمیں بعض اوقات اسرائیلی حکومت کے فیصلوں سے اختلاف ہوتا ہے، کیونکہ وہ اسرائیل کے اپنے سلامتی مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں۔"