مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ کمی کے آثار کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک بحال ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 تاہم امریکی یومِ آزادی کی تعطیلات کے باعث محدود تجارتی سرگرمیوں نے مارکیٹ کی رفتار سست رکھی۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 17 سینٹ یا 0.24 فیصد اضافے کے بعد 72.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 14 سینٹ یا 0.20 فیصد مہنگا ہو کر 68.83 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔امریکی یومِ آزادی کے باعث جمعہ کو امریکا کی مالیاتی منڈیاں بند رہیں، جس سے عالمی تیل کی تجارت محدود رہی۔ اس سے قبل ہونے والے کاروباری سیشن میں دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے والی سطح تک واپس آ گئی تھیں، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں میں کئی ماہ کی کم ترین اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کو مثبت پیش رفت تصور کر رہے ہیں، تاہم کسی واضح اور عملی نتیجے سے قبل بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے گریز کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آنے کے بعد خلیجی ممالک نے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کویت کی یومیہ تیل پیداوار جون کے دوران بڑھ کر 16 لاکھ 50 ہزار بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ مئی میں یہ تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تھی۔تجارتی ذرائع کے مطابق کم از کم پانچ سپر آئل ٹینکرز، جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل سعودی خام تیل موجود تھا، آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ دوسری جانب سعودی آرامکو نے ایشیائی خریداروں کو اسپاٹ مارکیٹ کی قیمتوں پر تیل کی فراہمی میں تیزی لانا شروع کر دی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 83 سینٹ یا 1.21 فیصد سستا ہو کر 67.75 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والے بالواسطہ مذاکرات میں امریکی اور ایرانی نمائندوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کے تحفظ اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں سمیت اہم علاقائی اور اقتصادی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔