منشیات اور قتل کیس، انمول عرف پنکی کے خلاف اہم پیش رفت

منشیات اور قتل کیس، انمول عرف پنکی کے خلاف اہم پیش رفت

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اور قتل کے مقدمات میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سیشن عدالت جنوبی میں  ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی سماعت کے دوران گاڑدن تھانے میں درج منشیات کے مقدمے میں ملزمہ کے مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ موخر کر دیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت سے متعلق فیصلہ فاضل جج کی رخصت کے باعث کل تک مؤخر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ملزمان سہیل الرحمان اور ذیشان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جن کے وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا انمول عرف پنکی کے مبینہ جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔پولیس کے مطابق مذکورہ ملزمان کے خلاف تھانہ گارڈن میں منشیات کا مقدمہ درج ہے اور تفتیش جاری ہے۔دوسری جانب قتل کے مقدمے میں پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ چالان میں مدعی مقدمہ، لاش کا معائنہ کرنے والے اہلکار، ایمبولینس ڈرائیور اور ایف آئی آر درج کرنے والے پولیس اہلکار کو بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق عبوری چالان میں موجود بعض غلطیوں کو حتمی چالان میں درست کر دیا جائے گا، جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے چالان میں سنگین نقائص کی نشاندہی بھی کی ہے۔یاد رہے کہ 7 اپریل کو بغدادی کے علاقے میں ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ انمول عرف پنکی سے منشیات حاصل کرتا تھا، جبکہ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر موت منشیات کے استعمال سے ہوئی تھی۔