کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے دوران چار گواہوں نے ملزمہ کی شناخت کر لی۔
گواہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ ملزمہ کو گارڈن کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مقدمے کے چار گواہوں نے ملزمہ کی شناخت کی۔ گواہوں میں لیڈی کانسٹیبل سونیہ اشرف، تفتیشی افسر منصور، سب انسپکٹر عبدالستار اور اے ایس آئی اورنگزیب شامل ہیں۔سماعت کے دوران گواہوں نے بیان دیا کہ ملزمہ کو گارڈن کی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے ملزمہ پر منشیات کے نیٹ ورک سے مبینہ تعلق کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر شکیل عباسی نے عدالت کو بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس نے بھی ملزمہ کی شناخت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ کا کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) مبینہ طور پر منشیات فروشوں کے ساتھ اس کے رابطوں کو ظاہر کرتا ہے۔
استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق کال ریکارڈ مقدمے کی تفتیش میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم ان الزامات اور شواہد کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے دوران ہوگا۔سماعت کے بعد عدالت نے مقدمے میں مزید گواہوں کو آئندہ پیشی پر طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت میں استغاثہ کے شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ملزمہ کے خلاف عائد الزامات پر حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔