کراچی: صوبائی کنٹرول آف نارکوٹکس عدالت نے مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
تاہم ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد عدالت نے مقدمے کی آئندہ کارروائی کے لیے گواہوں کو طلب کر لیا۔عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جیل حکام نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے ملزمہ اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی، تاہم تمام ملزمان نے اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔
ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار
عدالتی کارروائی کے دوران فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا۔ اس کے بعد عدالت نے مقدمے میں گواہوں کو طلب کرنے کی ہدایت کی تاکہ آئندہ سماعتوں کے دوران استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش کیے جا سکیں۔فردِ جرم عائد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے ملزمان کو ان کے خلاف الزامات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر ملزمان کو مجرم قرار نہیں دیا گیا، اور مقدمے کا فیصلہ شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
درخشاں پولیس نے 2025 میں مقدمہ درج کیا تھا
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق انمول عرف پنکی اور دیگر ملزمان کے خلاف درخشاں پولیس نے سال 2025 میں مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمے کی مزید سماعت میں گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد اہمیت کے حامل ہوں گے، جن کی بنیاد پر عدالت معاملے کا جائزہ لے گی۔
آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات متوقع
عدالت کی جانب سے گواہوں کو طلب کیے جانے کے بعد مقدمے کی کارروائی اگلے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ آئندہ سماعتوں میں استغاثہ کو اپنے مؤقف کی حمایت میں شواہد پیش کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ ملزمان کو بھی قانونی طریقے سے اپنا دفاع پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔