کالعدم ایکشن کمیٹی کے 4 افراد کی گرفتاری پر ایک، ایک کروڑ روپے انعام مقرر

افغانستان میں موجود خارجی شہزاد کی مبینہ ہدایات، الیکشن مخالف سرگرمیوں اور بدامنی پھیلانے سے متعلق آڈیو و ویڈیو مواد منظرِ عام پر آنے کا دعویٰ
 مظفرآباد‘اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) حکومت آزاد جموں و کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی  سے تعلق رکھنے والے چار مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر کر دیا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کے نام شامل ہیں، جن کی گرفتاری کیلئے  عوام سے مدد اور بدلے میں بھاری انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع اور مبصرین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج سے وابستہ مبینہ کمانڈر شہزاد اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان روابط سے متعلق ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر آئی ہیں، جن میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے مختلف ہدایات اور بیانات سامنے آئے ہیں۔دعوے کے مطابق ویڈیو میں خارجی شہزاد افغانستان سے ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، جس میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں اور احتجاجی مہم کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ویڈیو کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیان بھارتی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے اور اس میں پاکستان کی ریاستی پالیسیوں سے متعلق تبصرے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ایک مبینہ آڈیو کال بھی سامنے آئی ہے جس میں خارجی شہزاد اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس گفتگو میں آزاد کشمیر میں کارکنوں کو متحرک کرنے، بدامنی پھیلانے اور انتخابی عمل کی مخالفت سے متعلق بات چیت کی گئی۔آڈیو لیک کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کو روکنے اور مختلف سیاسی و عسکری معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا