اتوار کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں منعقدہ عظیم الشان پنٹی کوسٹ عبادت (سنڈے ماس) کے دوران، پوپ لیو چہار دہم (XIV) نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے قوم پرستانہ اور تقسیم پسند سیاسی رجحانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے ان رجحانات کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسی سوچیں عالمی امن، انسانی یکجہتی اور مذہبی تعلیمات کے منافی ہیں۔
پوپ لیو نے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے دعا کی:
"خداوند! سرحدوں کو کھول دے، دیواروں کو گرادے، اور نفرت کو مٹا دے۔"انہوں نے مزید کہا:"تعصب، سیکیورٹی زونز اور ایک دوسرے سے دوری پیدا کرنے والے خیالات کے لیے ہماری زندگیوں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہی سوچ اب قومی سیاست کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔"اگرچہ پوپ لیو نے کسی مخصوص ملک یا رہنما کا نام نہیں لیا، مگر ان کے بیان کو موجودہ عالمی سیاسی ماحول خصوصاً امریکا اور یورپ میں جاری قوم پرست تحریکوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
پوپ لیو کی پس منظر
پوپ لیو، جن کا اصل نام رابرٹ پرویوسٹ ہے، 8 مئی کو پوپ فرانسس کے جانشین کے طور پر منتخب ہوئے۔ وہ کیتھولک چرچ کی تاریخ میں پہلے امریکی پوپ ہیں۔ پوپ بننے سے قبل پرویوسٹ امریکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ان کا پرانا "ایکس" (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ @drprevost پوپ منتخب ہونے کے بعد غیر فعال کر دیا گیا، لیکن ماضی میں وہاں موجود متعدد پوسٹس ان کی سیاسی اور سماجی خیالات کی عکاسی کرتی تھیں۔
پچھلے بیانات کی جھلک
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سابق پوپ فرانسس بھی امیگریشن مخالف پالیسیوں کے شدید ناقد تھے۔ 2016 میں انہوں نے ٹرمپ کو "غیر مسیحی" قرار دیا تھا اور جنوری 2025 میں لاکھوں تارکینِ وطن کی ممکنہ ملک بدری کو "شرمناک عمل" کہا تھا۔
پنٹی کوسٹ کا پس منظر
اتوار کو پوپ لیو نے یہ خطبہ پنٹی کوسٹ کے موقع پر دیا، جو عیسائیوں کے نزدیک ایک اہم اور روحانی دن ہوتا ہے۔ یہ دن یسوع مسیح کے آسمان پر چڑھنے کے بعد روح القدس کے نزول کی یاد میں منایا جاتا ہے اور عالمی مسیحی برادری میں اسے عبادت، دعا اور امن کے پیغام کے طور پر منایا جاتا ہے۔پوپ لیو کے خطاب کو بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی، مہاجرین کے حقوق، اور تعصب کے خلاف ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔