وفاقی حکومت آج (10 جون 2025) مالی سال 2025-26 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں ٹیکسوں میں اضافے، سبسڈیز کے خاتمے اور نئی مالی پالیسیوں کے تحت روزمرہ کی کئی اشیاء کی قیمتوں میں ردوبدل متوقع ہے۔
مہنگائی کا خدشہ:
ذرائع کے مطابق حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے متعدد تجاویز تیار کی ہیں، جن میں درج ذیل اشیاء پر قیمتوں کے بڑھنے کا امکان ہے:
850 سی سی تک کی گاڑیاں:
ان پر جی ایس ٹی کی شرح 12.5% سے بڑھا کر 18% کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے چھوٹی گاڑیاں مہنگی ہو سکتی ہیں۔
بیکری مصنوعات، کھاد، اور کیڑے مار ادویات:
ان اشیاء پر بھی ٹیکس لگانے یا بڑھانے کی تجاویز زیر غور ہیں، جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
فاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ:
سابقہ فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا اثر مقامی کاروبار اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
قیمتوں میں ممکنہ کمی:
کچھ اشیاء ایسی بھی ہیں جن پر ٹیکسوں میں نرمی کی تجاویز سامنے آئی ہیں:
سگریٹ اور مشروبات:
ان پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس سے یہ اشیاء سستی ہو سکتی ہیں۔ حکومت ہر سال سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی روایت ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
پراپرٹی سیکٹر:
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) ختم کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس کے ساتھ کیپٹل گین ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے۔
ڈیجیٹل آمدن پر ٹیکس:
حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والوں، خاص طور پر:
یوٹیوبرز
فری لانسرز
بیرونِ ملک سے آن لائن کمائی کرنے والوں
کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔
بجٹ پالیسی کا مقصد:
حکومت کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، معیشت کو ڈاکیومنٹ کرنا اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں ریونیو اہداف کو پورا کرنا ہے۔
نتیجہ:
نئے بجٹ کے بعد جہاں متوسط طبقے پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے، وہیں کچھ مخصوص شعبے وقتی ریلیف حاصل کر سکتے ہیں۔ بجٹ کی مکمل تفصیلات آج شام قومی اسمبلی میں پیشی کے بعد سامنے آئیں گی۔