پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے صوبائی بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا، جسے وزیرِ قانون آفتاب عالم نے پیش کیا۔
اجلاس اسپیکر بابر سلیم کی زیر صدارت ہوا، جبکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ایوان آمد پر حکومتی ارکان نے تالیاں بجا کر استقبال کیا۔
اپوزیشن کا احتجاج
اپوزیشن ارکان نے ایوان میں داخل ہوتے وقت "علی بابا چالیس چور" کے نعرے لگائے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر "صاف چلی شفاف چلی، کرپشن سرعام چلی" جیسے نعرے درج تھے۔ ن لیگی رکن صوبیہ شاہد بگل بھی ساتھ لائیں اور اسے بجاتی رہیں۔ حکومتی ارکان نے بھی نعرے بازی میں بھرپور حصہ لیا۔ اسپیکر کی درخواست پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اراکین کو پرامن کیا۔ایوان میں ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا گیا، اسرائیلی حملوں کے خلاف مذمتی کلمات ادا کیے گئے۔
بجٹ تقریر کی جھلکیاں
وزیر قانون آفتاب عالم نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا:
جب وزیراعلیٰ نے منصب سنبھالا، صوبے کی معاشی حالت دگرگوں تھی۔
90 ارب روپے کم موصول ہونے کے باوجود مثالی بجٹ پیش کیا گیا۔
رواں مالی سال میں حکومت نے 49 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی کی، جن میں سے 18 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے گئے۔
پولیس بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا تاکہ فورس کو جدید اسلحہ، مشینری اور حفاظتی سازوسامان مہیا کیا جاسکے۔
صحت کارڈ اسکیم کی بحالی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بندوبستی اضلاع کے لیے بجٹ میں پہلے 120 ارب روپے رکھے گئے تھے، جو بڑھا کر 155 ارب روپے کردیے گئے — یہ 35 ارب روپے کا اضافہ "اے ڈی پی پلس" کے تحت کیا گیا۔وزیر قانون نے کہا کہ یہ بجٹ صرف اخراجات کی فہرست نہیں بلکہ ترقی کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کو معاشی خود کفالت کی طرف لے جانا ہے۔