واشنگٹن: امریکی مہم جو خاتون کیلسی فینڈلر نے تنہا بحرالکاہل (Pacific Ocean) عبور کرتے ہوئے ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
وہ کیلیفورنیا سے ہوائی تک بغیر کسی بیرونی مدد کے یہ طویل اور دشوار گزار سمندری سفر مکمل کرنے والی پہلی امریکی خاتون بن گئی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلسی فینڈلر نے 21 مئی 2026ء کو کیلیفورنیا کے ساحلی شہر مونٹیری (Monterey) سے اپنی 21 فٹ لمبی کشتی "لیلی (Lily)" میں سفر کا آغاز کیا۔ مسلسل 43 دن، 17 گھنٹے اور 55 منٹ تک سمندر میں اکیلے رہنے کے بعد وہ 3 جولائی 2026ء کی شب کامیابی سے ہوائی کے ساحل پر پہنچیں۔اس مہم کے دوران انہوں نے تقریباً 2 ہزار 400 میل (تقریباً 3 ہزار 860 کلومیٹر) کا فاصلہ بغیر کسی تکنیکی یا انسانی مدد کے طے کیا، جو برداشت، حوصلے اور غیر معمولی جسمانی و ذہنی صلاحیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق کیلسی فینڈلر نے نہ صرف خواتین کا 86 دن میں مکمل ہونے والا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا بلکہ مردوں کا 52 دن کا تیز ترین ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یوں وہ اس روٹ پر سب سے کم وقت میں بحرالکاہل عبور کرنے والی پہلی شخصیت بن گئی ہیں۔اس کامیابی کے ساتھ کیلسی فینڈلر اس راستے کو کامیابی سے مکمل کرنے والی کم عمر ترین خاتون کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیلیفورنیا سے ہوائی تک کا سمندری راستہ دنیا کے مشکل ترین اوشین روئنگ روٹس میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں مہم جوؤں کو تیز لہروں، غیر متوقع موسمی تبدیلیوں، شدید تھکن، تنہائی اور محدود وسائل جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیلسی فینڈلر کی اس تاریخی کامیابی کو کھیلوں اور ایڈونچر کی دنیا میں ایک غیر معمولی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر سے انہیں اس شاندار کارنامے پر مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔