اسپین کے جنوبی خودمختار علاقے اندلس میں جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ نے تباہی مچا دی، جہاں اب تک کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد لاپتا ہیں۔
حکام نے اسے اندلس کی تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آگ قرار دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ جمعرات کی سہ پہر صوبہ المیریا کی بلدیہ لاس گیلارڈوس (Los Gallardos) میں این-340 شاہراہ کے قریب بھڑکی۔ شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث شعلے تیزی سے پھیلتے ہوئے قریبی بلدیہ بیڈار (Bédar) تک جا پہنچے، جس سے وسیع جنگلاتی رقبہ اور متعدد رہائشی علاقے متاثر ہوئے۔علاقائی حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران کئی افراد کی لاشیں ان کی گاڑیوں سے برآمد ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ افراد آگ سے بچنے کے لیے محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی کر رہے تھے لیکن شعلوں کی شدت اور دھوئیں کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں متعدد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے 300 سے زائد ہنگامی اہلکار مسلسل مصروف عمل ہیں، جن میں اسپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ (UME) کے 150 سے زائد تربیت یافتہ اہلکار بھی شامل ہیں۔ آگ بجھانے کے لیے زمینی ٹیموں کے ساتھ فضائی وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شدید دھوئیں اور آگ کے باعث ٹریفک حکام نے علاقے کی دو اہم شاہراہیں عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ قریبی آبادیوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی، تاہم ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجلی کی گرے ہوئے تاروں سے خشک جھاڑیوں میں آگ بھڑکی، جو تیز ہواؤں کے باعث چند ہی گھنٹوں میں وسیع علاقے تک پھیل گئی۔ماہرین کے مطابق اسپین اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے، حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔