یروشلم اور تل ابیب کے درمیان اسرائیل کے جنگلات میں لگی ہولناک آگ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔
آتش زدگی کی تفصیلات:
آگ یروشلم اور تل ابیب کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہ کے اطراف جنگل میں لگی۔تیز ہواؤں نے آگ کو شدت سے بھڑکایا، جس کے باعث یہ 30 کلومیٹر سے زائد علاقے میں پھیل گئی۔درجنوں مغربی دیہات متاثر ہوئے اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
اہم اثرات:
اسرائیل کے 77ویں یومِ آزادی کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔روایتی مشعل روشن کرنے کی تقریب کی بجائے ریکارڈ شدہ ویڈیو نشر کی گئی۔چینل 12 کو یروشلم کے قریب اپنے اسٹوڈیو سے نشریات بند کرنا پڑی۔
حکومتی اور عوامی ردعمل:
صدر اسحاق ہرزوگ نے اس صورتحال کو موسمیاتی بحران سے جوڑا اور موجودہ شام کو "غیر معمولی اور پریشان کن" قرار دیا۔اسرائیلی فوج، انجینئرنگ ٹیمیں اور فضائیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔17 فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔یروشلم فائر سروس کے کمانڈر شمولک فریڈمین نے اسے ملک کی تاریخ کی "سب سے بڑی آگ" قرار دیا۔
بین الاقوامی امداد اور الزامات:
کروشیا، فرانس، اٹلی، رومانیہ اور اسپین سے فائر فائٹنگ طیاروں کی آمد متوقع ہے۔وزیرِ سلامتی ایتامار بن گویر نے اشارہ دیا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو سکتی ہے، لیکن کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔یہ واقعہ اسرائیل کے لیے نہ صرف ایک ماحولیاتی چیلنج ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز اور حکومتی تیاریوں پر بھی بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔