بالی ووڈ کے اداکار عامر خان کی تیسری شادی ایک بار پھر سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا میں بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں ایک ہندوتوا تنظیم سے وابستہ افراد نے بین المذاہب شادی پر اعتراض کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں خود کو ہندو تنظیم سے وابستہ قرار دینے والے چند افراد عامر خان کی شادی کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں مقررین نے بین المذاہب شادیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں اس طرح کے مزید معاملات سامنے آئے تو وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ویڈیو میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ عامر خان مبینہ طور پر ایک سازش کے تحت ہندو خواتین سے شادیاں کر رہے ہیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ مقرر نے اداکار کی ذاتی زندگی اور ان کے بچوں کا بھی ذکر کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔کئی صارفین نے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی اور شادی کا فیصلہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ بعض صارفین نے مذہب کی بنیاد پر کسی کی نجی زندگی کو نشانہ بنانے پر بھی اعتراض کیا۔
دوسری جانب یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ ویڈیو میں موجود افراد کا تعلق کس مخصوص تنظیم سے ہے، جبکہ آزاد ذرائع سے ان کے دعوؤں یا تنظیمی وابستگی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔واضح رہے کہ عامر خان اس سے قبل فلم پروڈیوسر و ہدایتکارہ کرن راؤ کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار چکے ہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کی شادی رینا دتہ سے ہوئی تھی۔ اداکار کی ذاتی زندگی ہمیشہ ہی مداحوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔