ویسٹ انڈیز کے سابق جارح مزاج اوپنر کرس گیل نے جنوبی افریقہ کے بیٹر ویان ملڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا برائن لارا کا ناقابل شکست 400 رنز کا ریکارڈ نہ توڑنا ایک بڑی غلطی تھی۔
یہ واقعہ زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پیش آیا، جہاں ویان ملڈر نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ناٹ آؤٹ 367 رنز بنائے۔ اس اننگز میں ان کے پاس موقع تھا کہ وہ لارا کے تاریخی 400 ناٹ آؤٹ رنز کا عالمی ریکارڈ توڑ سکتے، مگر انہوں نے "عظیم بیٹر کے احترام" میں ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کرس گیل کا سخت ردعمل:
کرس گیل نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:"اگر مجھے یہ موقع ملا ہوتا، تو میں ضرور 400 سے آگے جاتا۔"انہوں نے مزید کہا:"ایسے لمحات بار بار نہیں آتے۔ آپ کو نہیں پتا کہ اگلی ٹرپل سنچری کب ہوگی۔ جب بھی ایسا موقع ملے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔"
"شاید گھبراہٹ میں فیصلہ کیا":
کرس گیل نے ملڈر کے فیصلے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"ممکن ہے کہ وہ گھبرا گئے ہوں، یا دباؤ میں آکر ایسا نہ کرنا چاہا ہو۔"انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے ذہنی پختگی اور موقع کے ادراک کا امتحان ہوتے ہیں، اور ملڈر نے ریکارڈ نہ توڑ کر غلطی کی۔
تاریخی پس منظر:
برائن لارا نے 2004 میں انگلینڈ کے خلاف 400 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو آج بھی قائم ہے۔یہ ریکارڈ توڑنے کا موقع بہت کم بلے بازوں کو ملا ہے اور ملڈر ان خوش نصیبوں میں سے ایک تھے۔
شائقین میں بحث چھڑ گئی:
کرس گیل کے بیان کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ریکارڈ کا احترام زیادہ اہم ہے یا نئے ریکارڈ بنانے کی جرات؟
کچھ ناقدین ملڈر کے فیصلے کو باعزت اور روایتی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر گیل کی جارحانہ سوچ کو پیشہ ورانہ کرکٹ کا تقاضا مان رہے ہیں۔