فارما انڈسٹری کا 25 کروڑ عوام کی صحت کیلئے کلیدی کردار

محمد باقر جاوا
پاکستان میں جب بھی قومی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلا سوال صحت کی سہولتوں اور ان تک عوام کی رسائی کے گرد گھومتا ہے۔ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں سے ایک بڑی تعداد ایسے مسائل سے دوچار ہے جنہیں معیاری علاج اور موثر دوائوں کے ذریعے کم یا ختم کیا جا سکتا ہے اور اس میں بنیادی کردار فارما انڈسٹری کاہے۔ اس صنعت کو صرف تجارتی کاروبار کے تناظر میں دیکھنا ناانصافی ہوگی کیونکہ یہ شعبہ براہ راست عوام کی صحت، زندگی کے معیار اور ملک کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کی فارما انڈسٹری مضبوط، جدید اور شفاف انداز میں کام کر رہی ہو تو وہ ملک اپنی آبادی کو صحت مند رکھنے اور بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔پاکستان کی فارما انڈسٹری کا دائرہ وسیع ہے جس میں ہزاروں چھوٹی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور یہ صنعت ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے بلکہ ادویات کی مقامی تیاری کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی بچا رہی ہے۔ اگر یہ صنعت کمزور ہو یا اس پر غیر ملکی اجارہ داری ہو تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے عوام کو دوائوں کی قلت اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو پہلے ہی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ علاج پر خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے فارما انڈسٹری کا مضبوط ہونا عوامی صحت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اقتصادی خودمختاری کی بھی ضمانت ہے۔۔فارما انڈسٹری کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ عوام کو بنیادی اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے بروقت دوائیں فراہم کرتی ہے۔ عام زکام اور بخار سے لے کر دل کے امراض، ذیابیطس، کینسر، ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریوں تک کے علاج میں فارما انڈسٹری کی پیداوار ناگزیر ہے۔ اگر دوائیں وقت پر اور معیاری دستیاب نہ ہوں تو ہسپتالوں کے جدید ا?لات اور بہترین ڈاکٹر بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر سکتے۔ اس صنعت کی بدولت آج پاکستان کے شہری بہت سی ایسی ادویات مقامی طور پر حاصل کر سکتے ہیں جو کبھی صرف درآمد کی جاتی تھیں اور ان کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھیں۔۔پاکستان میں صحت عامہ کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہسپتال اور طبی سہولتیں محدود ہیں۔ وہاں فارما انڈسٹری کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔یہاں پر ڈاکٹرز کی کمی کو آسانی سے پورا نہیں کیا جا سکتا مگر دوائوں کی دستیابی سے بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس شعبے کا ایک اور اہم پہلو ریسرچ اور ڈویلپمنٹ ہے۔ اگرچہ پاکستان ابھی تک اس میدان میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکا مگر مقامی سطح پر تحقیقی مراکز اور یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک فارما انڈسٹری کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔ جب نئی دوائوں کی تیاری مقامی طور پر ہوگی تو پاکستان عالمی سطح پر بھی اپنی پہچان بنا سکے گا۔ یہ نہ صرف صحت کے میدان میں انقلاب لائے گا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فارما انڈسٹری کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ دوائوں کی قیمتوں میں اضافہ، جعلی ادویات کی موجودگی اور معیار کی کمی ایسے مسائل ہیں جن سے براہ راست عوام متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان 
میں جعلی اور غیر معیاری دوائوں کا پھیلائو ایک سنگین خطرہ ہے جو نہ صرف مریض کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کرتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، Drug Regulatory Authority of Pakistan  اور خود فارما کمپنیوں کو ذمہ داری اٹھانی ہوگی تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ ادویات فراہم کی جا سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری اداروں کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی۔۔جہاں تک دوائوں کی قیمتوں کا تعلق ہے تو وہ حد سے زیادہ تجاوز کر چکی ہیں۔ عوام کی اکثریت غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر دوائیں ان کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو فارما انڈسٹری کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور صنعت ایک ایسا متوازن نظام قائم کریں جس میں کمپنیوں کو مناسب منافع بھی ملے اور عوام کو بھی معیاری دوائیں سستی قیمتوں پر میسر رہیں۔پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی فارما انڈسٹری کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ موقع اس لیے کہ 25 کروڑ افراد کی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ ایک وسیع مارکیٹ ہے جو صنعت کو ترقی دے سکتی ہے۔ چیلنج اس لیے کہ بڑھتی ہوئی بیماریوں، آلودگی، ناقص خوراک اور صحت کی سہولتوں کی کمی نے عوامی صحت کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں اگر فارما انڈسٹری نے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور معیار پر توجہ نہ دی تو یہ چیلنج مزید گہرا ہو جائے گا۔فارما انڈسٹری کا کردار صرف بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بیماریوں کی روک تھام میں بھی اہم ہے۔ ویکسینز، غذائی سپلیمنٹس اور ہیلتھ ایجوکیشن کے منصوبے اس صنعت کے ذریعے عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں غذائی قلت اور بچوں کی کمزور صحت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر فارما کمپنیاں سپلیمنٹس اور وٹامنز کو عام ا?دمی کی پہنچ میں لائیں تو آنے والی نسلوں کو صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بیماریوں کی آگاہی مہموں میں بھی یہ صنعت اپنا کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ صحت مند عوام ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔پاکستان کی معیشت کے تناظر میں بھی فارما انڈسٹری کی اہمیت ناقابلِ فراموش ہے۔ یہ صنعت اربوں روپے کا ریونیو پیدا کرتی ہے اور برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ کما سکتی ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کو مراعات دے اور تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی کرے تو پاکستان خطے میں ایک بڑی فارما پروڈکشن ہب بن سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی 25 کروڑ عوام کی صحت کا مستقبل فارما انڈسٹری سے جڑا ہوا ہے۔ یہ صنعت عوام کو صحت مند رکھنے، بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے، معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہوگا جب اس شعبے کو محض کاروباری منافع کے بجائے عوامی خدمت اور قومی ذمہ داری سمجھ کر چلایا جائے۔ حکومت، صنعت، طبی ماہرین اور عوام سب کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو فارما انڈسٹری کو جدید، شفاف اور عوام دوست بنائیں۔ ایک صحت مند قوم ہی ایک ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے اور فارما انڈسٹری اس بنیاد کی تعمیر میں کلیدی ستون ہے۔