رشوت میں کمی اور فروغ میں عوام کا کردار

محمد تسنیم رضا
چند سال پہلے کی بات ہے، میرا کسی سے لین دین کا معاملہ تھا بلکہ لین دین کا کیا، صرف لین کا معاملہ تھا۔ میں نے کسی سے کچھ پیسے لینے تھے جو وہ دینے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ پیسوں کا تقاضا کرنے پر کچھ دن بعد کا وعدہ کر دیتے تھے اور وہ دن آنے پر کوئی عذر تراشتے اور کسی دوسرے دن رقم دینے کا وعدہ کر لیتے۔ ان کے بار بار ایسا کرنے پر جب میرے لہجے میں تلخی آئی تو انہوں نے مجھے ایک مہینے بعد کی تاریخ کا چیک دے دیا کہ یہ لیں اور ایک مہینے بعد چیک کیش کروا لیں۔
 جب میں ایک مہینے بعد پیسے لینے بینک میں گیا تو پتا چلا کہ اس کے اکاؤنٹ میں تو کچھ ہے ہی نہیں۔ بینک والوں نے کہا کچھ دنوں بعد دوبارہ چکر لگا لیں، ہو سکتا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں پیسے کہیں سے آ جائیں۔ ایسے چکر لگاتے لگاتے دو مہینے اور گزر گئے۔ پیسے اس کے اکاؤنٹ میں آنے تھے نہ آئے۔ تنگ آ کر میں نے ایس پی سٹی کو درخواست دے دی اور ساتھ چیک کے کیش نہ ہونے کا ریکارڈ لگا دیا۔
کچھ دنوں بعد مجھے تھانے سے فون آیا کہ آپ تھانے میں آئیں۔ تھانے میں پہنچا، تفتیشی سے ملا، اپنا مسئلہ بیان کیا۔ اس نے سن کر مدعا علیہ کو فون کیا اور اسے بھی تھانے بلا لیا۔ اس نے اقرار کیا کہ ہاں، میں نے ان کے پیسے دینے ہیں لیکن ابھی میرے پاس نہیں ہیں، مجھے کچھ دن کا وقت دے دیں۔ آفیسر کہنے لگا، آپ ایسا کریں، وہ پیسے دینا مان رہا ہے، آپ حق پر ہیں لیکن اس کے پاس ابھی دینے کے لیے کچھ نہیں، آپ اسے مزید کچھ وقت دے دیں۔میں نے صبر کا گھونٹ بھرا اور ہاں کر دی۔ مقررہ وقت پر جب میں تھانے گیا تو اس بار بھی مدعا علیہ نے منت سماجت کر کے مزید دس دن کا وقت لے لیا۔ یہ دس دن گزرنے کے بعد اس نے پھر کہہ دیا کہ اس کے پاس ابھی بھی پیسے نہیں ہیں۔ میں نے آفیسر سے کہا کہ اب آپ اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور پرچہ درج کر دیں لیکن اس نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔
جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو وہ کہنے لگا، ایس ایچ او ایف آئی آر کے لیے پانچ ہزار روپے مانگتا ہے۔ میں نے پیسے دینے سے انکار کر دیا تو اس نے کہا آپ خود ایس ایچ او سے مل لیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، چلو میرے ساتھ مل لیتے ہیں۔ مجبوراً اس کو ایس ایچ او کے کمرے میں میرا ساتھ جانا پڑا۔میں نے جاتے ہی کہا کہ یہ تفتیشی کہہ رہے ہیں کہ آپ قانونی کارروائی کے لیے پانچ ہزار روپے مانگ رہے ہیں (یہ کوئی دس سال پہلے کی بات ہے، آج یقیناً ریٹ کئی گنا بڑھ چکا ہو گا، مہنگائی بھی تو بہت ہو گئی ہے نا)۔ وہ ہنس پڑے، کہا!آپ تشریف رکھیں۔ انہوں نے کسی کو  چائیلانے کا کہا اور ساتھ ہی مدعا علیہ کو فون کر کے تھانے میں آنے کا بھی کہہ دیا۔
پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: جناب، مجھے تو آپ سے مل کر خوشی ہو رہی ہے کہ کوئی تو ہے جو ہمیں پیسے دینے سے انکاری ہے، ورنہ یہاں تو جو آتا ہے، وہ سچا ہو یا جھوٹا، پہلے ہمیں پیسے دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کا کام آسانی اور جلدی سے ہو جائے۔ ہم بھی ان رویوں اور روپیوں  دونوں کے عادی ہو چکے ہیں۔اپنے عادی ہونے کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایک واقعہ سنانے لگے کہ ان کا اپنے ماتحت عملے کے ساتھ ایک قانونی کارروائی کے لیے کسی ایسے گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا جس گاؤں کے راستے میں ان کے سسرال کا گاؤں بھی تھا۔ انہوں نے اپنے سسرال والوں کو فون کیا کہ میں واپسی پر آپ کو مل کر جاؤں گا اور میرے ساتھ میرا ماتحت عملہ بھی ہے، آپ صرف چائے کا اہتمام کیجیے گا، کھانا ہم کھا کر آئیں گے۔
کہنے لگے، میرے روکنے کے باوجود میرے سسرال نے بہت سارے پکوان تیار کیے تاکہ میرے عملے کے سامنے میری عزت و وقار میں اضافہ ہو سکے۔سسرال پہنچ کر  میں تو  گھر کے اندر چلا گیا اور ماتحتوں  کوبیٹھک میں  بٹھا دیا۔میرے ماتحتوں کو بڑے ادب سے کھانا پیش کیا گیا، جیسا کہ ہمارے دیہات کا کلچر ہے۔ کھانے کے بعد ان سے پوچھا گیا، ‘‘ہمارے لائق کچھ اور؟’’ تو سپاہیوں میں سے ایک کہنے لگا، ‘‘کوئی پانچ پانچ سو نقد بھی دے دیں۔’’
ہنس کر بتانے لگے، میرے سسرالیوں نے میری لاج رکھنے کے لیے وہ بھی دے دیے، جس کا مجھے تھانے واپس آ کر پتا چلا۔ میں بڑا شرمندہ ہوا۔ کہنے لگا، اب آپ ہی بتائیں، ہم اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ چند سو روپے کی خاطر اپنے آفیسر کی عزت کا بھی خیال نہیں کرتے۔اتنی دیر میں مدعا علیہ کو بھی بلا لیا گیا۔ ایس ایچ او نے اس سے کہا: اگر ابھی پیسے دیتے ہو تو ٹھیک، ورنہ میں آپ کو پرچہ کاٹ کر حوالات میں بند کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی، میں دیتا ہوں۔ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد میں نے اپنے پیسے بھی وصول کر لیے، اور اللہ نے فریقین کو رشوت جیسے گناہ سے بھی بچا لیا۔
 ایک بار  بجلی کا  میٹر لگوانے کے لیے جانا پڑا۔ انہیں درخواست مکمل کر کے دی اور پوچھا کہ کب تک آپ کی کارروائی مکمل ہو گی؟ تو وہ کھل کر کہنے لگا، ‘‘بہت دن لگ جاتے ہیں، لیکن اگر آپ چائے پانی دے دیں تو ایک تو آپ کو بار بار چکر نہیں لگانا پڑیں گے، دوسرا آپ کا میٹر جلدی لگ جائے گا۔میں نے کہا کہ میں تو پیسے نہیں دیتا۔ اس نے کہا، ‘‘جناب! یہ بجلی کا محکمہ ہے، یہاں تو مردے کے کفن سے پیسے نکال لیتے ہیں۔’’ میں ہنس پڑا اور کہا، ‘‘آپ درخواست رکھیں، اللہ بہتری کرے گا۔چند دن بعد میں گیا اور پوچھا تو اس نے فائل اس طرف رکھی ہوئی تھی جس طرف کی فائلوں پر جلدی کارروائی نہیں کرنی ہوتی۔ میں نے پوچھا کہ اس پر ابھی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ تو اس نے عذر پیش کیا کہ فلاں صاحب نہیں تھے اور فلاں صاحب بھی نہیں تھے، ان کے دستخط نہیں ہوئے۔ کہنے لگا، ‘‘میں نے آپ سے کہا بھی تھا، چائے پانی دے دیں، لیکن آپ مانے ہی نہیں۔ اب آپ یہ فائل لے لیں اور خود دستخط کروا لیں۔’’
میں نے فائل لے لی اور دوسرے کمرے میں جا کر ان صاحبان سے کہا، ‘‘اس پر دستخط کر دیں۔’’ انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا، ‘‘کچھ ہماری بھی خدمت کریں گے یا نہیں؟’’ میں نے کہا، ‘‘نہیں۔’’ انہوں نے ناگواری سے مجھے دیکھا اور چپ کر کے دستخط کر دیے۔قصہ مختصر، پانچ منٹ میں تمام لوگوں کے دستخط ہو گئے اور ایک ماہ بعد میٹر لگ گیا۔
یہ واقعات بظاہر عام سے نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت ان میں ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ جھلکتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب رشوت دیتے ہیں تو یہ سوچ کر دیتے ہیں کہ ہمارا کام جلدی ہو جائے گا، یا اگر ہم نہ دیں تو ہمیں بار بار دفتر کے چکر لگانے پڑیں گے۔ یہی سوچ رشوت کو معاشرتی روایت بناتی ہے۔رشوت صرف لینے والا ہی نہیں ، دینے والا بھی اتنا ہی شریکِ جرم ہوتا ہے۔ پاسپورٹ کے دفتر میں باہر 
لمبی قطار لگی ہو?ی تھی اور کچھ لوگ بغیر قطار میں لگے سرکاری یا غیر سرکاری اہل کاروں کو پیسے دے کر اندر جا رہے تھے میں بھی قطار میں تھا ،میں  نے اسے کہا شرم کرو لوگوں سے پیسے لے کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہواس نے بڑی برجستگی سے کہا  جناب مجھے سے پہلے رشوت دینے والے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں وہ نہ دیں ہم کیسے لے سکتے ہیں وہ خود  پیش کرتے ہیں تو ہم لے لیتے ہیں۔فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے  
اگر عوام فیصلہ کر لیں کہ وہ کسی قیمت پر رشوت نہیں دیں گے، تو نظام خود بخود درست ہونے لگے گا۔ حکومتی ادارے عوامی دباؤ سے زیادہ مؤثر نہیں ہوتے، بلکہ عوام کا اجتماعی ضمیر ہی حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔میرا رشوت نہ دینے کا تجربہ ہمیشہ اچھا رہا ۔پٹواری سے ا?پ خود معاملہ کر  کے دیکھ لیں