کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں واقع کوئلہ کان میں گیس کے دھماکے کے بعد 12 کان کن پھنس گئے ہیں اور انہیں 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی تک ریسکیو نہیں کیا جا سکا ہے۔
مائنز حکام کے مطابق گزشتہ روز کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 12 کان کن اندر پھنس گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا، جس میں محکمہ مائنز، پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) اور ایف سی (فرنٹیئر کور) کے اہلکار شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں رات بھر سے کان کنوں کو بحفاظت نکالنے میں مصروف ہیں اور ریسکیو آپریشن میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کان کے داخلی راستے سے ملبہ ہٹانے کے بعد گیس کا اخراج کافی حد تک کم ہوگیا ہے جس کے باعث ٹیمیں اب کان کے اندر بھیجا جا چکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق، ملبے کے ہٹانے اور گیس کے اخراج کے بعد کان کے اندر کام کرنے والی ٹیمیں کان کنوں کو نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں مزید تاخیر کی کوئی وجہ نہیں ہوگی اور کان کنوں کو جلد ہی بحفاظت نکال لیا جائے گا۔واضح رہے کہ اس طرح کے حادثات میں اکثر کان کنوں کو گیس اور ملبے کے دباؤ کی وجہ سے زندگی کو خطرہ ہوتا ہے، لیکن ریسکیو ٹیمیں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ تمام پھنسے کان کنوں کو بروقت نکال لیا جائے۔