بلوچستان کے علاقے سیورنج میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس جمع ہونے کے باعث ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 36 کان کنوں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں، جہاں نمازِ جنازہ کے بعد انہیں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سیورنج کی کوئلہ کان میں زہریلی گیس جمع ہونے سے دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 36 محنت کش کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق افراد میں ایک ہی خاندان کے تین سگے بھائی اور ان کے چچا جبکہ دوسرے خاندان کے دو سگے بھائی بھی شامل ہیں، جس سے متعدد خاندانوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔اس افسوسناک سانحے کے بعد ضلع شانگلہ میں سوگ کی فضا چھا گئی، جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کو آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کرتے رہے۔ مختلف علاقوں میں تعزیت کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا رخ کر رہی ہے۔دوسری جانب جاں بحق کان کنوں کی میتیں نجی گاڑیوں کی چھتوں پر آبائی علاقوں تک منتقل کیے جانے کی تصاویر سامنے آنے پر عوام نے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے حکومتی انتظامات پر سوالات بھی اٹھائے۔مقامی افراد اور سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، کان کنی کے دوران حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور حادثات کی صورت میں بروقت ریسکیو اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے جامع نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔